اشاعتیں

اکتوبر, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نافرمان بیٹا،

تصویر
*ماں باپ کا نافرمان بیٹا* رحمن احمد نے اپنی ساری زندگی اپنے بیٹے فرحان کے لیے وقف کر دی تھی۔ وہ ایک معمولی سے درزی تھے، گاؤں کی چھوٹی سی دکان تھی، مگر ان کے خواب بہت بڑے تھے۔ ان کی بیوی نسرین کے ساتھ ان کی واحد خواہش تھی کہ ان کا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے۔  رحمن احمد نے اپنی ساری خواہشات ختم کر کے اپنے بیٹے کے لیے دن رات محنت کی کئی کئی دن فاقے کاٹے، اپنا پیٹ کاٹ کر گھی کے پیسے بچائے تاکہ فرحان کو شہر کے اچھے کالج میں بھیج سکیں۔ وہ دونوں میاں بیوی رات کو جاگ جاگ کر فرحان کے لیے دعائیں کرتے تھے۔ اللہ نے ان کی سن لی۔ فرحان پڑھائی میں بہت لائق نکلا۔ شہر سے ڈگری لی، پھر اسے شہر ہی میں ایک بڑی کمپنی میں اچھی نوکری مل گئی۔ رحمن اور نسرین کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ ان کا بیٹا کامیاب ہو گیا تھا۔ نوکری کے ایک سال بعد ہی فرحان نے شہر کی ایک پڑی لکھی لڑکی،  ۔۔۔ سے پسند کی شادی کر لی۔عائزا خوبصورت تھی، تیز مزاج تھی اور اسے گاؤں کی زندگی سے نفرت تھی۔ شادی کے بعد فرحان ماں باپ کو شہر اپنے فلیٹ میں لے آیا۔ شروع کے چند مہینے تو اچھے گزرے۔ پھر آہستہ آہستہ عائزا کے تیور بدلنے لگے۔ اسے نس...

وہ یتیم بچی،

تصویر
          ،،وہ یتیم بچی،، وہ چھ سال کی تھی جب اس کی ماں مر گئی۔ نام اس کا فائزہ تھا۔ چھوٹا سا چہرہ، بڑی بڑی آنکھیں، اور ہاتھ میں ہر وقت اپنی ماں کی پرانی چادر۔ لوگ کہتے تھے ماں کی قبر کے ساتھ ہی اس بچے کا بچپن بھی دفن ہو گیا ہے۔ باپ... باپ مجبور تھا۔ افس میں جاب کرتا تھا، صبح جاتا شام کو آتا۔ اسے لگا دوسری شادی کر لے گا تو بچی کو ماں مل جائے گی۔فائزہ کا خیال رکھے گی اس کو اسکول بھیجے گی پڑھائی کی لکھائے گی، اس اس طرح میری بیٹی کو ماں کا انچل مل جائے گا۔ اسے کیا خبر تھی کہ وہ آنچل کے نام پر اپنی بیٹی کے لیے کانٹوں کا بستر لے کر آ رہا ہے۔ نئی ماں آئی تو پہلے پہل ہنسی تھی۔ میٹھی باتیں۔فائزہ کو بہت پیار کرتی محلے والوں کے سامنے فائزہ کو بیٹی بیٹی کہنا۔ باپ خوش ہو گیا کہ فیصلہ ٹھیک تھا۔ پھر باپ کے افس پر جاتے ہی گھر کا نقشہ بدل جاتا۔ فائزہ کی صبح اذان سے پہلے شروع ہوتی۔ "اٹھ! کم بخت، ابھی تک سو رہی ہے؟" چھوٹے سے ہاتھوں سے اسے پورے گھر کا جھاڑو لگانا پڑتا۔ برتن اس کے قد سے بڑے تھے۔ ہاتھ کانپتے، برتن گرتا تو اسی برتن سے اس کے ہاتھ پر مار پڑتی۔ روٹی اسے سب کے بعد ملتی۔ ...

خالی گود

تصویر
   ،،عورت کی خالی گود،، سکینہ ایک بہت اچھے گھر کی پڑی لکھی لڑکی تھی اس کے ابو بہت بڑے بزنس مین تھے جو اکثر اپنے کام کے سلسلے میں پاکستان سے باہر رہتے تھے ۔ اس کی ماں بچپن میں ہی اللہ کو پیاری ہو گئی تھی اور باپ نے ہی سکینہ کو ماں بن کے پالا تھا اور اس کی شادی ایک بہت اچھے معزز گھرانے میں کی تھی۔ باپ نے بڑے ارمانوں سے اس کی شادی فاروق سے کی تھی۔ فاروق شہر کے ایک بڑے بینک میں مینجر تھا۔ شادی کے پہلے چند مہینے تو ٹھیک گزرے،فاروق اور اس کے سارے گھر والے سکینہ سے بہت پیار کرتے تھے۔ لیکن پھر ساس نے طعنے دینے شروع کر دیے۔ "ایک سال ہو گیا، ابھی تک گود خالی ہے، پتہ نہیں کیسی بانجھ لڑکی لے آئے ہیں۔" سکینہ دن رات روتی، اللہ سے اولاد مانگتی۔ اس نے حکیموں کے ٹوٹکے بھی کیے، ڈاکٹروں سے دوا بھی لی، لیکن اللہ کی مرضی۔ اس کا شوہر فاروق بھی اب بدل گیا تھا۔ پہلے جو محبت سے بات کرتا تھا، اب ہر بات پر ڈانٹتا۔ "تو تو بانجھ ہے، میرے گھر کا چراغ کون جلائے گا؟ لوگ کیا کہیں گے؟" ساس اور نند تو جیسے اس ظلم میں برابر کی شریک تھیں۔ کبھی کھانے میں نمک زیادہ کا بہانہ، کبھی کام چوری کا الزام۔ آخر ا...

پردیسی بابو کی کہانی،

تصویر
  ،،پردیسی کی کہانی،، سہیل جب کراچی ائیرپورٹ سے دبئی کے لیے جہاز میں بیٹھا تو اس کی آنکھوں میں صرف ایک ہی خواب تھا،  اپنی چھوٹی بہن کی شادی کرنی ہے، اپنی ماں کا پکا گھر بنوانا ہے،اپنے باپ کا قرضہ ادا کرنا ہے، چھوٹے بھائی کو پڑھا لکھا کہ اچھی نوکری جاب لگوانی ہے۔ گاؤں میں سب نے کہا تھا، سہیل تو بہت خوش نصیب ہے، باہر جا رہا ہے، وہاں جا کے خوب پیسہ کمائے گا۔اپنی اور اپنی اور اپنے گھر والوں کی زندگی خوشیوں سے بھر دے گا، کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ اس کے دل میں کتنا خوف ہے۔ پہلی بار ماں سے اپنے گھر والوں سے اپنے گاؤں سے اپنے وطن سے دور جا رہا تھا۔ امی نے ائیرپورٹ پر روتے ہوئے کہا تھا، "بیٹا اپنا خیال رکھنا،روز ہمیں فون ضرور کرنا۔" سہیل نے وعدہ کیا، "امی روز کروں گا۔" دبئی کی گرمی سہیل نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔اور نہ کبھی سوچا تھا کہ تمہیں میں اتنی گرمی ہوتی ہے، پچاس ڈگری میں وہ سارا دن سیمنٹ کے بورے اٹھاتا۔ کنسٹرکشن کمپنی میں مزدوری ملی تھی۔ رہنے کو بارہ لڑکوں کے ساتھ ایک چھوٹا سا کمرہ۔ رات کو جب سب سو جاتے تو وہ چھت پر جا کر امی کو ویڈیو کال کرتا۔ شروع کے تین مہینے سب ٹھیک تھ...

سچی محبت کا درد بھرا انجام،

تصویر
  ،،سچی محبت کا انجام،، *اس کا نام علی تھا۔* علی ایک بہت ہی سمجھدار سیدھا سادھا لڑکا،شریف لڑکا تھا،پڑھائی میں بہت ہی اچھا تھا،جس کی دنیا بہت چھوٹی تھی۔ ایک چھوٹا سا گھر، ایک بوڑھی ماں، اور ایک دل جو صرف محبت کرنا جانتا تھا، حساب کرنا نہیں۔ اور پھر اس کی زندگی میں فاطمہ آئی۔ فاطمہ... کالج کے پہلے دن، سفید لباس میں، ہاتھ میں کتابیں، اور آنکھوں میں ایک ایسی اداسی جس نے علی کا دل چیر دیا تھا۔ وہ ہنستی بھی تھی تو لگتا تھا جیسے رو رہی ہے۔ علی کو پہلی نظر میں فاطمہ سے محبت ہو گئی۔ ایسی محبت جو آج کل کے دور میں صرف بے وقوفی کہلاتی ہے۔ آہستہ آہستہ بات شروع ہوئی۔ نوٹس کے بہانے، کلاس کے بہانے، چائے کے بہانے۔ فاطمہ بھی علی سے بات کرنے لگی۔ وہ کہتی تھی، تم باقی لڑکوں جیسے نہیں ہو۔ تمہاری آنکھوں میں لالچ نہیں، سچائی ہے۔ علی نے اپنی پوری زندگی اس ایک جملے پر وار دے دی۔ تین سال۔ پورے تین سال علی نے فاطمہ کی پوجا کی۔ اس نے خود کبھی نیا جوڑا نہیں لیا لیکن زینب کی سالگرہ پر اپنی جیب کے سارے پیسے جمع کر کے اس کے لیے انگوٹھی لے آیا۔ چھوٹی سی، سستی سی، لیکن اس کی محبت سے بھری ہوئی۔ فاطمہ نے وہ انگوٹھی پ...

ماں کی 12 عیدیں ایک ماں کی درد بھری کہانی

تصویر
  ماں کا انتظار اپنے بیٹے کے  لیے  کراچی کے شہر محلہ سرجانی ٹاؤن  میں ایک گلی تھی اس گلی میں ایک کمرے کا چھوٹا مکان تھا اس میں رضیہ نام کی لڑکی اپنے بیٹے عبداللہ کے ساتھ رہتی تھی۔عبداللہ کے سوا اس دنیا میں رضیہ کا کوئی نہیں تھا عبداللہ ہی اس کی زندگی تھا۔اس کی صبح اس کی شام اس کے سب کچھ صرف عبداللہ ہی تھا۔رضیہ کی سانس ہے عبداللہ کو دیکھ کے چلتی تھی۔ رضیہ کا دل عبداللہ کو دیکھ کے دھڑکتا تھا۔ عبداللہ صرف چھ سال کا تھا۔ رضیہ کا شوہر اس کو دو سال پہلے چھوڑ کے چلا گیا تھا۔وہ کہتا تھا رضیہ جب سے تم میری زندگی میں ائی ہو۔ تب سے غربت نے تو میرا دروازہ ہی دیکھ لیا ہے۔اب میں مزید تمہارے ساتھ اپنی زندگی خراب نہیں کر سکتا۔اور میں جا رہا ہوں۔وہ رضیہ کو چھوڑ کے چلا گیا۔اور دوسری شادی کر لی۔رضیہ دوسروں کے گھروں میں کام کر کے ان کے کپڑے برتن صفائیاں کر کے اپنے بیٹے کا پیٹ پال رہی تھی۔ عبداللہ بہت ذہین تھا۔ وہ ماں سے کہتا، "ماما جب میں بڑا افسر بنوں گا نا، تو تمہیں اس ایک کمرے سے نکال کر بڑے گھر میں لے جاؤں گا، جہاں بہت ساری روشنی ہوگی۔" رضیہ۔اس کی بات پہ ہنس دیتی ہے اور اس کے ماتھے ...

سواں پھول جو کبھی کھلا ہی نہیں

تصویر
*سواں پھول جو کبھی نہیں کھلا*  ، کراچی کے شہر محلہ لیاقت اباد میں ایک لڑکی رہتی تھی جس کا نام افشا تھا افشا ایک بہت پیاری خوبصورت سی بڑی بڑی انکھوں والی لڑکی تھی پڑھائی میں نمبر ون تھی گھر کے کاموں میں نمبر ون تھی اپنی ماں کی فرمانبردار تھی وہ دوسری لڑکیوں کی طرح بالکل بھی نہیں تھی وہ ایک خاموش اور سلجھی ہوئی لڑکی تھی  ،  اس کے ابو بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے اس نے اپنی ماں کو ہی اپنا باپ اپنی بہن اپنا بھائی اپنی دوست سمجھا ہوا تھا برابر والے گھر میں سالار نام کا ایک لڑکا رہتا تھا جو اپنے گاؤں سے کراچی میں پڑھنے ایا ہوا تھا۔ سالار وہ لڑکا تھا جو کم بولتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی شرم تھی۔ جب وہ  افشا ں کو دیکھتا تو نظریں جھکا لیتا۔  افشاں ایک شام اپنی چھت پہ کھڑی ہوئی تھی کہ سالار بھی اپنی چھت پہ اگیا اس نے افشاں کو دیکھا اور افشاں کو کہا کہ اپ مجھے اچھی لگتی ہیں میں اپ کو پسند کرتا ہوں اور اس نے اپنی جیب سے ایک پھول نکال کے افشاں کو دے دیا اور افشا کو کہا کہ یہ لیں یہ پھول ہے اور جب یہ پورے پھول سو ہو جائیں گے تو میں اپنی امی کو اپ کی امی کے پاس بھیجوں ...

طلاق کا وزنی کاغذ,

تصویر
 حسد کی اگ اور ،طلاق، کا وزنی  ،دو سہیلیوں کی کہانی۔   کراچی یونیورسٹی میں دو دوست  ایک ساتھ پڑتی تھے، ایک ہی بنچ، ایک ہی خواب۔ نور اور صدف کی دوستی یونیورسٹی میں مثال تھی۔ نور خاموش طبع، نمازی، پرہیزگار، ہر وقت کتابوں میں گم رہنے والی۔ اور صدف تیز طرار، ہنس مکھ، مگر دل میں کہیں نہ کہیں ایک مقابلے کی آگ لیے ہوئے۔ دونوں کا تعلق متوسط گھرانوں سے تھا، لیکن دونوں کے دل میں تھا کہ اچھے گھرانے میں شادی ہو، عزت والی زندگی ملے۔ یونیورسٹی ختم ہوا تو وقت نے دونوں کو ان کے اپنے اپنے گاؤں بھیج دیا۔ رابطہ کم ہو گیا، زندگی اپنی راہوں پر چل پڑی۔ اسی ضلع کے دوسرے گاؤں میں ایک بہت بڑا زمیندار خاندان آباد تھا۔ چوہدری ظفر اقبال کے دو بیٹے تھے۔ بڑا بیٹا سلمان اور چھوٹا بیٹا فیضان۔ دونوں بیٹوں کی شادی کی بات چلی تو رشتے ڈھونڈے جانے لگے۔ قسمت کا کھیل دیکھو کہ چوہدری صاحب کے گھر والوں کو نور کا رشتہ سلمان کے لیے پسند آ گیا، اور چند مہینے بعد ہی صدف کا رشتہ فیضان کے لیے طے ہو گیا۔ دونوں کو خبر تک نہ تھی کہ وہ ایک ہی خاندان میں جا رہی ہیں۔ شادی والے دن جب نور دلہن بن کر بیٹھی تھی اور برات آئ...

وہ اخری معافی،

تصویر
*عنوان: وہ آخری معافی*   میرے گاؤں فیصل اباد میں، ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام فیصل تھا۔ فیصل بچپن سے ہی بہت ذہین اور سلجھا ھوا  لڑکا تھا۔ اسی گاؤں میں اس کے گھر کے سات ایک لڑکی رہتی تھی جس کا نام نورین تھا۔ دونوں ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے، ایک ہی گلی میں کھیل کر بڑے ہوئے تھے۔ بچپن کی یہ دوستی کب محبت میں بدل گئی، دونوں کو پتہ ہی نہیں چلا۔ فیصل نورین سے بے بے تحاشہ دیوانگی کی حد تک محبت کرتا تھا۔ وہ صبح اسکول جانے سے پہلے اس کے گھر کے سامنے سے گزرتا، صرف ایک نظر دیکھنے کے لیے۔کبھی نورین کی طبعت خراب ہو جاتی تو اس کو ڈاکٹر کے پاس لے کے جاتا ہے اس کو میڈیسن دلاتا اور ساری رات جاگ کر اللہ پاک سے اس کے لیے دعا کرتا کہ یا اللہ پاک نورین کو صحت والی لمبی کی زندگی دے اس کو جلدی اچھا کر دے ۔ نورین کو جو چیز پسند ہوتی، فیصل اپنی جیب خرچ جمع کر کے لے آتا۔ نورین کی ناراضگی اس کے نخرے اس کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش۔اس کی ہنسی، اس کے بعد کرنے کا انداز اسکے لیے بہت قیمتی تھا۔ لیکن نورین اس محبت کو کچھ اور سمجھتی تھی۔ اسے لگتا تھا فیصل تو اس کا دیوانہ ہے اس سے محبت کرتا ہے اس کے چھوڑ کے کہاں جائ...

فرمانبردار بیٹا اور اس کی ماں

تصویر
*عنوان: فرمانبردار بیٹے کا خواب اور ماں کی دعا کراچی شہر میں ایک ماں اور اس کا بیٹا رہتے تھے بیٹے کا نام سہبان تھا،وہ بہت ہونہار تھا لڑکا تھا۔ سہبان اپنی ماں کا بہت فرمانبردار بیٹا تھا اسکول میں محلے میں رشتے داروں میں سب جگہ اس کی تعریف ہوتی تھی سب یہی کہتے تھے کہ سہبان اپنی ماں کا فرمانبردار بیٹا ہے اور سہبان کی ماں کو بھی اس بات پہ بہت فخر ہوتا تھا، کہ اس کا بیٹا اس کا فرمانبردار ہے، اس کی ہر ایک بات مانتا ھے، سہبان کو بچپن سے ہی موٹر سائیکل کا بہت شوق تھا۔ گلی میں جب بھی کوئی رائیڈر تیز رفتار بائیک پر گزرتا، سہبان کی آنکھیں چمک اٹھتیں۔ وہ گھنٹوں تک اس بائیک کو دیکھتا رہتا اور دل ہی دل میں سوچتا کہ ایک دن وہ بھی ایک مشہور رائیڈر بنے گا، لوگ اس کے نام سے اسے پہچانیں گے، اس کی تصویریں اخبار میں چھپیں گی۔ اس کی ماں ایک بہت سادہ اور نیک دل خاتون تھی۔ اس کے والد کا انتقال سہبان کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ ماں نے بڑی محنت اور قربانیوں سے اسے پالا تھا۔ وہ سلائی کڑھائی کر کے، لوگوں کے کپڑے سی کر سہبان کی سکول کی فیس بھرتی تھی۔ اس کی ایک ہی خواہش تھی کہ اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر کوئی بڑا آدمی بنے...

بیٹیاں بوجھ نہیں رحمت ہیں،

تصویر
بیٹیاں بوجھ نہیں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں غلام رسول گاؤں کا ایک غریب مزدور تھا۔ اس کے گھر میں پہلے سے تین بیٹے تھے۔ جب چوتھی بار بھی بیٹی پیدا ہوئی تو اس کا دل بجھ گیا۔ اس کی بیوی تو خوش تھی لیکن وہ خاموش رہا۔ گاؤں کے لوگوں نے طعنے دینا شروع کر دیے۔  کوئی کہتا چوتھی بھی بیٹی ہو گئی۔ کوئی کہتا اب اس کی کمر ٹوٹ گئی۔ بیٹیاں تو بوجھ ہوتی ہیں۔ یہ باتیں سن کر غلام رسول اور زیادہ دکھی ہو جاتا۔ وہ سارا دن کھیت میں مزدوری کرتا اور شام کو تھکا ہوا گھر آتا۔ وہ سوچتا کہ ان چار بچیوں کی شادی کیسے کرے گا۔ اس کی سب سے چھوٹی بیٹی کا نام انابیہ تھا۔ وہ بہت پیاری تھی اور اپنے باپ سے بہت محبت کرتی تھی۔ ایک سرد رات غلام رسول کو تیز بخار ہو گیا۔ وہ تپ رہا تھا۔ اس کے تینوں بیٹے اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ الگ رہتے تھے۔ کسی نے خبر نہ لی۔ ماں بوڑھی تھی اور کچھ نہ کر سکتی تھی۔ رات کے دو بجے انابیہ جاگی۔ اس نے دیکھا باپ کراہ رہا ہے۔ وہ فوراً اٹھی اور اپنے دوپٹے سے باپ کے ماتھے پر پٹی رکھی۔ ساری رات وہ باپ کے پاس بیٹھی رہی۔ اپنے ننھے ہاتھوں سے باپ کے پاؤں دباتی رہی۔ وہ اپنے باپ کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔ وقت...

پہلی محبت ادھوری رہ گئی

تصویر
محبت جو ادھوری رہ گئی ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکی رہتی تھی، جس کا نام مریم تھا۔ سادہ سی، سادہ کپڑے پہننا، ہاتھوں میں کتابیں اور آنکھوں میں بڑے بڑے خواب۔  کا خواب تھا ڈاکٹر بننا۔ اسی کالج میں ایک لڑکا پڑھتا تھا، نام تھا بلال۔ امیر گھرانے کا تھا، ہر کوئی اسے جانتا تھا، لیکن دل کا بہت نرم دکھائی دیتا تھا۔ مریم کو پہلی بار بلال نے لائبریری میں دیکھا۔ وہ زمین پر بیٹھی کتاب ڈھونڈ رہی تھی۔ بلال نے آ کر کہا، "کیا میں مدد کر دوں؟" مریم نے گھبرا کر کہا، "نہیں شکریہ۔" لیکن بلال کو اس کی یہی معصومیت بھا گئی۔ آہستہ آہستہ دونوں میں دوستی ہو گئی۔ نوٹس دینا، ساتھ چائے پینا، ایک دوسرے کا انتظار کرنا۔ مریم کے لیے بلال اس کی دنیا بن چکا تھا۔ بلال بھی کہتا تھا، "مریم تم دوسری لڑکیوں جیسی نہیں ہو، تم میں حیا ہے، تم سچی ہو۔" ایک دن بارش ہو رہی تھی، کالج میں کوئی نہیں تھا۔ ساحل نے مریم کا ہاتھ پکڑ کر کہا، "مریم کیا تم میری بنو گی؟ میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، میں اپنی امی کو تمہارے گھر بھیجوں گا۔" مریم  کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے زندگی میں پہلی بار کسی پر اتن...

اپنوں نے لوٹ لیا ایک سادہ بہن کی سچی کہانی

تصویر
  " سادگی کی جیت"  ایک شہر میں دو بہنیں رہتی تھیں۔ بڑی بہن کا نام  نازیہ تھا۔ وہ بہت سادہ، نرم دل اور خدا ترس لڑکی تھی۔ اسے بننا سنورنا نہیں آتا تھا، بس کتابیں پڑھنا اور گھر سنبھالنا آتا تھا۔ چھوٹی بہن کا نام مہوش تھا۔ وہ بہت ماڈرن، تیز اور خوبصورت تھی۔ ہر وقت فیشن اور باہر کی دنیا میں رہتی تھی۔ ایک دن ان کے گھر ایک بہت امیر، خوبصورت اور پڑھے لکھے لڑکے کا رشتہ آیا۔ لڑکے کا نام سلمان تھا۔ سب نے سوچا کہ سلمان کو تو مہوش جیسی ماڈرن لڑکی پسند آئے گی، لیکن اللہ کی شان دیکھو، سلمان نے نازیہ کی سادگی کو پسند کر لیا۔ اس نے کہا مجھے بیوی ایسی چاہیے جو میرے گھر کو جنت بنائے۔ نازیہ اور سلمان کی شادی ہو گئی۔ شروع کے دن بہت اچھے گزرے۔ پھر اللہ نے صبا کو ایک پیاری سی بیٹی دی۔ بیٹی کا نام زینب رکھا۔ بیٹی کی پیدائش کے بعد سلمان کا دل بدلنے لگا۔ وہ نازیہ سے دور رہنے لگا۔ اسے نازیہ کی سادگی اب بوجھ لگنے لگی۔ اسی دوران مہوش اپنی بہن کے گھر کچھ دن رہنے آئی۔ مہوش نے سلمان کو اپنی باتوں میں پھنسا لیا۔ دونوں میں دوستی ہوئی اور پھر وہ دوستی عشق میں بدل گئی۔ دونوں ہنسی خوشی رہتے اور نازیہ بیچاری ...

بھائی بہن کی عید پر جذباتی ملاقات

تصویر
سوتیلا بھائی اور دو سال کی ننھی گڑیا ایک چھوٹا سا لڑکا تھا جس کا نام صاحبان تھا۔ صاحبان کی عمر تقریباً بارہ سال تھی۔ اس کی ایک چھوٹی سی سوتیلی بہن تھی. جس کا نام حریم تھا۔ حریم صرف دو سال کی تھی، بالکل چھوٹی سی گڑیا جیسی۔ صاحبان اپنی بہن سے بے انتہا پیار کرتا تھا۔ جب حریم پیدا ہوئی تھی تو صاحبان نے اسے پہلی بار اپنی گود میں لیا تھا اور تب سے ہی وہ ننھی گڑیا اس کے دل میں بس گئی تھی۔ صاحبان کے ذہن میں کبھی بھی یہ نہیں ایا۔کہ حریم میری سوتیلی بہن ہے۔یہ میرا اپنا خون نہیں ہے۔وہ حریم سے  بے تحاشہ پیار کرتا تھا۔کوئی سگی بہن سے بھی کیا کرے گا پیار جو صاحبان اپنی سوتیلی بہن حریم سے پیار کرتا تھا۔صاحبان حریم کے لیے دعائیں کرتا تھا۔اللہ پاک سے کے اللہ پاک میری بہن کو صحت والی لمبی زندگی دینا اس کے نصیب اچھے کرنا۔ پھر حالات ایسے بدلے کہ صاحبان کو اپنی نانی کے پاس دوسرے شہر کراچی جانا پڑا۔ اس کی امی لاہور میں حریم کے ساتھ رہتی تھیں۔حریم کے ابو، جو صاحبان کے سوتیلے باپ تھے، صاحبان کو پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ اسے گھر آنے نہیں دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے، تم یہاں مت آیا کرو۔ لیکن صاحبان کا دل ہر روز اپنی...

اج بھی میرا بیٹا اوڑ کے دوپٹے کو میرے سوتا ہے ایک ماں کی کہانی

تصویر
اللہ کرے کسی ماں کا بیٹا اس سے جدا نہ ہو 🤲🤲😭😭 لاہور کے ایک خوبصورت سے گھر میں ایک عورت رہتی ہے جس کا نام دنیا والوں کے لیے تو کچھ اور ہے لیکن اس کے دل کا نام آج بھی صرف "ماں" ہے۔ اس کی دوسری شادی ہو چکی ہے۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہے، اچھا شوہر ہے، عزت ہے، گھر ہے، ہر چیز ہے لیکن اس کے دل میں آج بھی ایک ایسی خالی جگہ ہے جو کبھی پُر نہیں ہو سکی۔ آج سے تقریباً پانچ سال پہلے کی بات ہے۔ اس کی پہلی شادی ٹوٹ گئی تھی۔ شوہر نے اپنے گھر والوں کے کہنے پر اسے طلاق دے دی تھی۔ اور اس لڑکی کی سب سے قیمتی چیز، اس کا سات سال کا بیٹا، اس کی کل کائنات،اس کی زندگی جس کو دیکھ کے اس کی صبح ہوتی تھی۔شام ہوتی تھی سانسیں چلتی تھی۔دل کی دھڑکن چلتی تھی۔ اس کی گود سے چھین لیا گیا۔ وہ ماں روتی رہی، چیختی رہی کہ میرا بچہ مجھے دے دو، میں اس کے بغیر کیسے جیوں گی، لیکن کسی نے اس کی ایک نہ سنی۔ اس نے سب کے اگے ہاتھ جوڑے سب کے پیر پکڑے کہ خدا کے واسطے میرا بیٹا مجھ سے جدا نہیں کروں۔میں ماں ہوں اس کی لیکن کسی نے نہیں سنی۔ وہ روتی ہوئی۔اپنی ماں کے گھر آ کر رہنے لگی۔ ماں بہت غریب تھی، بیمار رہتی تھی۔ بھائی تھے، بھ...