اپنوں نے لوٹ لیا ایک سادہ بہن کی سچی کہانی
" سادگی کی جیت"
ایک شہر میں دو بہنیں رہتی تھیں۔
بڑی بہن کا نام نازیہ تھا۔ وہ بہت سادہ، نرم دل اور خدا ترس لڑکی تھی۔ اسے بننا سنورنا نہیں آتا تھا، بس کتابیں پڑھنا اور گھر سنبھالنا آتا تھا۔
چھوٹی بہن کا نام مہوش تھا۔ وہ بہت ماڈرن، تیز اور خوبصورت تھی۔ ہر وقت فیشن اور باہر کی دنیا میں رہتی تھی۔
ایک دن ان کے گھر ایک بہت امیر، خوبصورت اور پڑھے لکھے لڑکے کا رشتہ آیا۔ لڑکے کا نام سلمان تھا۔ سب نے سوچا کہ سلمان کو تو مہوش جیسی ماڈرن لڑکی پسند آئے گی، لیکن اللہ کی شان دیکھو، سلمان نے نازیہ کی سادگی کو پسند کر لیا۔ اس نے کہا مجھے بیوی ایسی چاہیے جو میرے گھر کو جنت بنائے۔
نازیہ اور سلمان کی شادی ہو گئی۔ شروع کے دن بہت اچھے گزرے۔ پھر اللہ نے صبا کو ایک پیاری سی بیٹی دی۔ بیٹی کا نام زینب رکھا۔
بیٹی کی پیدائش کے بعد سلمان کا دل بدلنے لگا۔ وہ نازیہ سے دور رہنے لگا۔ اسے نازیہ کی سادگی اب بوجھ لگنے لگی۔
اسی دوران مہوش اپنی بہن کے گھر کچھ دن رہنے آئی۔ مہوش نے سلمان کو اپنی باتوں میں پھنسا لیا۔ دونوں میں دوستی ہوئی اور پھر وہ دوستی عشق میں بدل گئی۔ دونوں ہنسی خوشی رہتے اور نازیہ بیچاری کمرے میں بیٹھ کر روتی رہتی۔
آخر ایک دن نازیہ نے اپنی معصوم بیٹی کو وہیں چھوڑا اور ایک خط لکھ کر گھر چھوڑ کر چلی گئی۔ خط میں لکھا تھا "تم میری چھوٹی بہن سے ہی شادی کر لو، میری بیٹی کا خیال رکھنا۔"
سلمان نے فوراً مہوش سے شادی کر لی۔ دونوں سمجھے اب وہ بہت خوش رہیں گے۔
لیکن وہ دونوں یہ بھول گئے تھے کہ اللہ کی لاٹھی بڑی بے اواز ہے
دوسری طرف نازیہ اپنی ایک پرانی سہیلی کے گھر چلی گئی۔ وہاں اس نے اپنے دکھ کو قلم بنا لیا۔ وہ لکھنے لگی۔ اس کی کہانیاں لوگوں کے دلوں کو چھونے لگیں۔ اسی دوران اسے ایک بہت اچھا اور شریف انسان ملا، نام تھا نعمان۔ نعمان نے ایک اچھے دوست کی طرح اس کا ساتھ دیا اس کا سہارا بنا، اس کی کتابیں چھپوائی۔
کچھ سالوں میں نازیہ ایک مشہور رائٹر بن گئی۔ اللہ نے اسے اتنی عزت اور دولت دی کہ وہ امیر سے امیر تر ہوتی گئی۔
دوسری طرف سلمان کے کاروبار میں بہت بڑا نقصان ہو گیا۔ وہ امیر سے غریب ہو گیا۔ اور مہوش کے ہاں اولاد بھی نہیں ہوئی۔ اسی بات پر دونوں میں ہر وقت لڑائی ہونے لگی۔
ادھر نازیہ کی بیٹی زینب جوان ہو گئی۔ وہ بہت سمجھدار اور اپنی ماں کی طرح سادہ تھی۔ اس کے باپ کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ وہ اس کی شادی اچھے سے کر سکے۔
نازیہ کو جب پتا چلا تو اس نے چپکے سے نعمان کے ہاتھ اپنی بیٹی کے لیے بہت سارا جہیز اور پیسے بھیجے اور کہا "میری بیٹی کو مت بتانا کہ یہ میں نے بھیجا ہے، بس کہنا اس کے باپ نے کیا ہے۔"
آخر میں نازیہ نے نعمان سے نکاح کر لیا جو ہر مشکل میں اس کے ساتھ کھڑا رہا۔ وہ بہت خوش اور پرسکون زندگی گزارنے لگی۔
اور سلمان اور مہوش؟ ان کے پاس نہ اولاد تھی، نہ پیسہ، نہ سکون۔ وہ اپنی ہی لگائی ہوئی آگ میں جلتے رہے۔

Mashallah achi kahani ha
جواب دیںحذف کریںThnx
حذف کریںWaqee I agreed bohat hee nasehat amount article hai
جواب دیںحذف کریںThnx
جواب دیںحذف کریںNice
جواب دیںحذف کریں