بیٹیاں بوجھ نہیں رحمت ہیں،
بیٹیاں بوجھ نہیں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں
غلام رسول گاؤں کا ایک غریب مزدور تھا۔ اس کے گھر میں پہلے سے تین بیٹے تھے۔ جب چوتھی بار بھی بیٹی پیدا ہوئی تو اس کا دل بجھ گیا۔ اس کی بیوی تو خوش تھی لیکن وہ خاموش رہا۔ گاؤں کے لوگوں نے طعنے دینا شروع کر دیے۔
کوئی کہتا چوتھی بھی بیٹی ہو گئی۔ کوئی کہتا اب اس کی کمر ٹوٹ گئی۔ بیٹیاں تو بوجھ ہوتی ہیں۔ یہ باتیں سن کر غلام رسول اور زیادہ دکھی ہو جاتا۔
وہ سارا دن کھیت میں مزدوری کرتا اور شام کو تھکا ہوا گھر آتا۔ وہ سوچتا کہ ان چار بچیوں کی شادی کیسے کرے گا۔ اس کی سب سے چھوٹی بیٹی کا نام انابیہ تھا۔ وہ بہت پیاری تھی اور اپنے باپ سے بہت محبت کرتی تھی۔
ایک سرد رات غلام رسول کو تیز بخار ہو گیا۔ وہ تپ رہا تھا۔ اس کے تینوں بیٹے اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ الگ رہتے تھے۔ کسی نے خبر نہ لی۔ ماں بوڑھی تھی اور کچھ نہ کر سکتی تھی۔
رات کے دو بجے انابیہ جاگی۔ اس نے دیکھا باپ کراہ رہا ہے۔ وہ فوراً اٹھی اور اپنے دوپٹے سے باپ کے ماتھے پر پٹی رکھی۔ ساری رات وہ باپ کے پاس بیٹھی رہی۔ اپنے ننھے ہاتھوں سے باپ کے پاؤں دباتی رہی۔ وہ اپنے باپ کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔
وقت گزرتا گیا۔ بیٹیاں جوان ہو گئیں۔ غلام رسول نے قرض لے کر تین بڑی بیٹیوں کی شادی کر دی۔ اب گھر میں صرف انابیہ رہ گئی۔ وہ کالج میں پڑھتی تھی۔ وہ شام کو بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی اور گھر کا خرچ چلانے میں ماں کی مدد کرتی۔
ایک سال گاؤں میں بڑا سیلاب آیا۔
غلام رسول کا کچا مکان گر گیا۔ سب کچھ بہہ گیا۔ وہ اور اس کی بیوی کھلے آسمان تلے بیٹھے رو رہے تھے۔
غلام رسول اپنے بیٹوں کے پاس گیا لیکن بیٹوں نے دروازہ بند کر دیا۔ انہوں نے کہا ہمارے پاس جگہ نہیں۔ آپ کہیں اور جائیں۔ یہ سن کر باپ کا دل ٹوٹ گیا۔
اسی وقت انابیہ آئی۔ اس نے کہا ابا جان پریشان نہ ہوں۔ اس نے ٹیوشن سے جوڑے ہوئے پیسوں سے ایک چھوٹا سا کمرہ کرائے پر لیا اور ماں باپ کو وہاں لے گئی۔ وہ دن رات محنت کرتی۔ اپنے ماں باپ کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتی اور دوا دیتی۔
گاؤں کے لوگ حیران تھے۔ جن بیٹوں پر ناز تھا وہ باپ کو چھوڑ گئے۔ لیکن بیٹی نے باپ کو بوجھ نہ سمجھا۔ اس نے ثابت کیا کہ بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں۔
کچھ سال بعد انابیہ کی شادی شہر کے ایک نیک گھرانے میں ہو گئی۔ اس کا شوہر بہت اچھا تھا اور انابیہ کی عزت کرتا تھا۔
شادی کے بعد بھی انابیہ ماں باپ کو نہ بھولی۔ وہ ہر ہفتے گاؤں آتی۔ ان کے لیے کپڑے اور دوائیاں لاتی۔ باپ کے پاس بیٹھ کر حال پوچھتی۔
ایک رات غلام رسول نے خواب دیکھا۔ قیامت کا دن ہے۔ ہر طرف آگ اور گرمی ہے۔ وہ اکیلا کھڑا ڈر رہا ہے کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
اتنے میں اس کی چاروں بیٹیاں آ کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔
وہ اللہ کے سامنے رو کر کہہ رہی ہیں۔ اے اللہ یہ ہمارے ابا ہیں۔ انہوں نے خود بھوکا رہ کر ہمیں کھلایا۔ خود پرانے کپڑے پہنے ہمیں نئے پہنائے
طعنے سنے مگر ہمیں پالا۔ آج ان پر رحم فرما تو بہت غفور اور رحیم ہے۔
پھر اس نے دیکھا کہ بیٹیوں کی دعا سے اس کے اور آگ کے درمیان ایک دیوار بن گئی ہے۔ وہ دیوار اسے آگ سے بچا رہی ہے۔
آنکھ کھلی تو غلام رسول رو رہا تھا۔ وہ سجدے میں گر گیا۔ اس نے کہا اے اللہ مجھے معاف کر دے۔ میں سمجھتا تھا بیٹیاں بوجھ ہیں۔ آج سمجھا بیٹیاں رحمت ہیں۔ اللہ سے بیٹیاں مانگ کر تو دیکھو۔ بیٹیاں باپ کو پریشان نہیں دیکھ سکتیں۔ بیٹیاں قیامت کے دن بھی باپ کے لیے جہنم کی آگ کے آگے ڈھال بن جائیں گی۔ اس کے بعد سے وہ ہر محفل میں یہی کہتا کہ بیٹیوں سے محبت کرو یہ اللہ کا انعام ہیں۔ جو باپ بیٹیوں کی قدر کرتا ہے اللہ اس کے رزق میں برکت دیتا ہے اور دنیا و آخرت دونوں میں اسے عزت ملتی ہے
یہ ایک سبق اموز کہانی ہے بیٹیوں سے محبت کرو یہ اللہ کا انعام ہے،اللہ پاک ہر بیٹی کے باپ کی رقص میں روزی میں اور زندگی میں برکت دے، آمین یا رب العالمین۔
Ap ko Meri yah Kahani kaisi large comments Karke btay
امبرظفر

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں