طلاق کا وزنی کاغذ,
حسد کی اگ اور ،طلاق، کا وزنی،دو سہیلیوں کی کہانی۔ کراچی یونیورسٹی میں دو دوست ایک ساتھ پڑتی تھے، ایک ہی بنچ، ایک ہی خواب۔ نور اور صدف کی دوستی یونیورسٹی میں مثال تھی۔ نور خاموش طبع، نمازی، پرہیزگار، ہر وقت کتابوں میں گم رہنے والی۔ اور صدف تیز طرار، ہنس مکھ، مگر دل میں کہیں نہ کہیں ایک مقابلے کی آگ لیے ہوئے۔ دونوں کا تعلق متوسط گھرانوں سے تھا، لیکن دونوں کے دل میں تھا کہ اچھے گھرانے میں شادی ہو، عزت والی زندگی ملے۔ یونیورسٹی ختم ہوا تو وقت نے دونوں کو ان کے اپنے اپنے گاؤں بھیج دیا۔ رابطہ کم ہو گیا، زندگی اپنی راہوں پر چل پڑی۔ اسی ضلع کے دوسرے گاؤں میں ایک بہت بڑا زمیندار خاندان آباد تھا۔ چوہدری ظفر اقبال کے دو بیٹے تھے۔ بڑا بیٹا سلمان اور چھوٹا بیٹا فیضان۔ دونوں بیٹوں کی شادی کی بات چلی تو رشتے ڈھونڈے جانے لگے۔ قسمت کا کھیل دیکھو کہ چوہدری صاحب کے گھر والوں کو نور کا رشتہ سلمان کے لیے پسند آ گیا، اور چند مہینے بعد ہی صدف کا رشتہ فیضان کے لیے طے ہو گیا۔ دونوں کو خبر تک نہ تھی کہ وہ ایک ہی خاندان میں جا رہی ہیں۔ شادی والے دن جب نور دلہن بن کر بیٹھی تھی اور برات آئی، تو اس نے دیکھا کہ دلہے کے ساتھ جو دوسرا لڑکا کھڑا ہے وہ فیضان ہے، اور اس کے پہلو میں کھڑی سہیلی... صدف۔ دونوں کی آنکھیں ملیں تو دونوں حیران رہ گئیں۔ "تم؟" "تمہاری شادی بھی یہیں ہوئی ہے؟" خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ دونوں سوچنے لگیں، چلو اللہ نے پھر سے ملا دیا۔ اب تو ہم دیورانی جیٹھانی ہی نہیں، سہیلیاں بھی ایک ہی گھر میں ہیں۔ شروع کے چند مہینے جنت کی طرح گزرے۔ دونوں مل کر کام کرتیں، ہنستی بولتیں، پرانے یونیورسٹی کے قصے یاد کرتیں۔ گھر کے بڑے بھی خوش تھے کہ دونوں سمجھدار بہوئیں آئی ہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ صدف کے دل میں ایک جلن ہونے لگی۔ سلمان، یعنی نور کا شوہر، گھر کا بڑا بیٹا تھا، وہ اپنی بیوی سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا،زیادہ سمجھدار، زیادہ نرم دل۔ فیضان، صدف کا شوہر، غصے والا اور کم توجہ دینے والا تھا۔ ساس سسر بھی نور کی عزت زیادہ کرتے کیونکہ وہ زیادہ خاموش اور خدمت گزار تھی اور گھر کی بڑی بہو تھی۔ صدف کو لگنے لگا کہ نور پھر سے اس سے بازی لے گئی ہے، جیسے یونیورسٹی میں اس کے نمبر زیادہ آتے تھے، ٹیچر بھی نور کو زیادہ پسند کرتے تھے۔ حسد ایک ایسی آگ ہے جو پہلے اپنے گھر کو جلاتی ہے۔ایک شام صدف نے موقع دیکھ کر سلمان کے کان میں ایک زہر گھول دیا۔ "سلمان بھائی، آپ سے ایک بات کہوں، برا نہ مانیے گا۔ نور میری بہت اچھی دوست ہے، لیکن یونیورسٹی میں اس کے کچھ دوست تھے۔ لڑکے... اٹھنا بیٹھنا تھا۔ میں تو اسے سمجھاتی تھی۔ آپ کا گھر خراب نہ ہو اس لیے بتا رہی ہوں۔" اس نے بات کو ایسے مرچ مسالہ لگا کر سنایا کہ سلمان کا خون کھول اٹھا۔ اس نے نور سے پوچھنا تک گوارا نہ کیا، تحقیق کرنا تو دور کی بات۔ اسی رات اس نے نور کی بہت انسلٹ کری اور کہا کہ تم بے وفا ہو، وفا عورت اب میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا، اور دوسری صبح اسے اس کے میکے بھیج دیا۔ نور روتی رہی، اپنے شوہر کو بولتی رہی "میری کسی سے کوئی دوستی نہیں تھی، میں نے کبھی کسی نامحرم کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا، وہ یونیورسٹی کا مذاق تھا، لڑکیاں آپس میں ہنسی مذاق کرتی تھیں۔" لیکن کسی نے نہ سنی۔ نور کی دنیا اجڑ گئی۔ وہ جو تہجد گزار تھی، اپ خاموش بیٹھی رہتی ہے ، ،کیونکہ، کچھ درد انسان کو رونے نہیں، دیتے اندر سے اس طرح توڑ دیتے ہیں، کہ انسان پہلے جیسا نہیں رہتا۔ اس کے ماں باپ غریب تھے، لوگوں کی باتیں سن سن کر شرمندہ ہوتے۔ کچھ مہینے بعد نور کو سچ کا پتہ چلا کہ یہ سارا کھیل صدف نے کھیلا ہے۔ وہ ٹوٹے دل کے ساتھ صدف کے پاس گئی۔ اس کے ہاتھ میں اب بھی وہی پرانی دوستی کی چوڑی تھی جو صدف نے اسے یونیورسٹی میں دی تھی۔ وہ بولی، "صدف، تم نے میرا گھر کیوں خراب کیا؟ تم نے میری ہنسی کو گناہ بنا دیا؟" صدف خاموش کھڑی رہی۔ پھر نور نے وہ بات کہی جو آج تک اس نے کسی سے نہیں کہی تھی۔ "تمہارا ماضی تو مجھے پتا تھا صدف۔ مجھے پتا تھا تم رات رات بھر شاہ زیب سے ملنے جاتی تھی۔ یونیورسٹی کے پیچھے والے پارک میں، لائبریری کے بہانے۔ مجھے پتا تھا تمہاری دوستی کس حد تک چلی گئی تھی۔ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ سبحان جو بچہ تمہاری بہن کے پاس ہے وہ تمہارا اور شاہزیب کا ہے ۔ مجھے سب پتا تھا۔ لیکن میں نے آج تک کسی کو نہیں بتایا۔ کیوں؟ کیونکہ میں ایک اچھے خاندان کی بیٹی ہوں، میں رازوں پر پردہ رکھنا جانتی ہوں۔ میں نے تمہاری عزت کو اپنی عزت سمجھا۔ اور تم نے؟ تم نے میری بے گناہی کو گناہ بنا دیا۔ تم نے میرے شوہر کے سامنے مجھے ذلیل کر دیا۔" صدف کا رنگ سفید پڑ گیا۔ اسے لگا جیسے زمین پھٹ گئی ہو۔ اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ نور سب جانتی ہے۔ نور یہ کہہ کر چلی گئی۔ اس نے بددعا نہیں دی، صرف اتنا کہا، "اللہ تمہیں معاف کرے۔" وقت گزرتا رہا۔ نور کے شوہر سلمان نے دوسری شادی کا فیصلہ کر لیا۔ اس کے گھر والوں نے اس کے لیے نیا رشتہ ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ جب یہ خبر نور تک پہنچی تو اس کے دل پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ وہ اپنے دو چھوٹے بچوں کو لے کر سلمان کے پاس آئی۔ وہ بچے جو اس کی جدائی کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ وہ سلمان کے سامنے کھڑی ہوئی اور بولی، "میں بے وفا نہیں تھی سلمان، لیکن کیا تم وفادار تھے؟" سلمان حیران رہ گیا۔ نور بولی، "شادی کے پہلے دن سے مجھے تمہارے ماضی کے بارے میں سب پتہ تھا نائلہ کے ساتھ تعلق تھا۔ مجھے پتا تھا تم دونوں کہاں کہاں گھومنے گئے، تم نے کہاں کہاں ایک ساتھ وقت گزارا۔ ساری تصاویریں، سارے میسج مجھے ایک دن تمہارے پرانے فون میں مل گئے تھے۔ لیکن پھر تمہاری کزن تمہیں چھوڑ کر کینیڈا چلی گئی، اور تم نے مجبوری میں مجھ سے شادی کر لی۔ میں نے تمہیں کبھی اس بات کا طعنہ نہیں دیا۔ کبھی تمہاری بے وفائی کا ذکر نہیں کیا۔ کیونکہ میں تم سے محبت کرتی تھی۔ میں نے تمہارے ماضی کو تمہارے حال پر قربان کر دیا۔ اور تم نے؟ تم نے میری سنی تک نہیں۔ تم نے یہ جاننے کی کوشش تک نہیں کی کہ میں گناہ گار ہوں یا بے گناہ۔ تم نے مجھے اتنی بڑی سزا دے دی۔ تم نے مجھے طلاق دے دی۔"یہ کہہ کر اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ "تمہیں پتا ہے سلمان، دنیا کا سب سے وزنی کاغذ کونسا ہوتا ہے؟ وہ طلاق کا کاغذ ہوتا ہے ۔ جب ایک عورت کو طلاق ہوتی ہے تو وہ کہیں کی نہیں رہتی۔ نہ میکے کی، نہ سسرال کی۔ لوگ اسے طرح طرح کی باتیں سناتے ہیں اس کو ہی قصور وار سمجھتے ہیں۔ تم نے میرے اوپر یہ دھبہ لگانا چاہا۔" سلمان کی آنکھیں جھک گئیں۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔ اس نے بغیر تحقیق کے ایک پاک دامن عورت پر الزام لگا دیا تھا۔ اسے یاد آیا کہ نور کتنی نمازی تھی،اس کی سلامتی کے لیے دعائیں کرتی تھی، کیسے وہ اس کے لیے روزے رکھتی تھی، اس کی ماں کے پاؤں دباتی تھی۔ اسی وقت صدف بھی وہاں آ گئی۔ اس کا شوہر فیضان اسے گھسیٹ کر لایا تھا کیونکہ اسے بھی ساری حقیقت پتہ چل چکی تھی۔ صدف نے سب کے سامنے روتے ہوئے نور سے معافی مانگی۔ "مجھے معاف کر دو نور، میں حسد میں اندھی ہو گئی تھی۔" چوہدری صاحب جو اب تک خاموش کھڑے سب سن رہے تھے، آگے بڑھے۔ انہوں نے کہا، "طلاق دینا بہت آسان ہے، لیکن اس کاغذ کا وزن اٹھانا بہت مشکل ہے۔ سلمان، تم نے ایک بے گناہ کے ساتھ ظلم کیا ہے۔" فراز نور کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے بچوں کو سینے سے لگایا اور کہا، "مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمہاری قدر نہیں کی۔" نور نے کچھ نہیں کہا۔ وہ جانتی تھی کہ معاف کرنا بڑے دل کا کام ہے، لیکن ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنا آسان نہیں۔ اس کہانی کا سبق یہہے کہ حسد انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا، اور کسی کی بات پر بغیر تحقیق کے یقین کر کے کسی کی زندگی برباد کرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ طلاق کا کاغذ ایک عورت کے لیے واقعی دنیا کا سب سے وزنی کاغذ ہوتا ہے، یہ صرف دو لوگوں کو الگ نہیں کرتا، یہ کئی نسلوں کے دل میں زخم چھوڑ جاتا ہے۔," کسی نے سچ ہی کہا ہے،" ماضی تو دونوں کا ہی تھا لیکن وفاداری میں کمال کرنے والی مخلوق عورت ہی ہے جو اپنے محبوب کا ماضی جان کر بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتی، اس کے دکھ درد اور ہر حال میں اس کے ساتھ کھڑی رہتی ہے اور مرد عورت کی ایک غلطی پہ اس کو چھوڑ دیتا ہے اس کی کوئی صفائی نہیں سنتا میری کہانی اپ لوگوں کو کیسی لگی کمنٹس میں ضرور بتائیں امبرظفر |

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں