پردیسی بابو کی کہانی،
،،پردیسی کی کہانی،،
سہیل جب کراچی ائیرپورٹ سے دبئی کے لیے جہاز میں بیٹھا تو اس کی آنکھوں میں صرف ایک ہی خواب تھا، اپنی چھوٹی بہن کی شادی کرنی ہے، اپنی ماں کا پکا گھر بنوانا ہے،اپنے باپ کا قرضہ ادا کرنا ہے، چھوٹے بھائی کو پڑھا لکھا کہ اچھی نوکری جاب لگوانی ہے۔
گاؤں میں سب نے کہا تھا، سہیل تو بہت خوش نصیب ہے، باہر جا رہا ہے، وہاں جا کے خوب پیسہ کمائے گا۔اپنی اور اپنی اور اپنے گھر والوں کی زندگی خوشیوں سے بھر دے گا، کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ اس کے دل میں کتنا خوف ہے۔ پہلی بار ماں سے اپنے گھر والوں سے اپنے گاؤں سے اپنے وطن سے دور جا رہا تھا۔
امی نے ائیرپورٹ پر روتے ہوئے کہا تھا، "بیٹا اپنا خیال رکھنا،روز ہمیں فون ضرور کرنا۔"
سہیل نے وعدہ کیا، "امی روز کروں گا۔"
دبئی کی گرمی سہیل نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔اور نہ کبھی سوچا تھا کہ تمہیں میں اتنی گرمی ہوتی ہے، پچاس ڈگری میں وہ سارا دن سیمنٹ کے بورے اٹھاتا۔ کنسٹرکشن کمپنی میں مزدوری ملی تھی۔ رہنے کو بارہ لڑکوں کے ساتھ ایک چھوٹا سا کمرہ۔ رات کو جب سب سو جاتے تو وہ چھت پر جا کر امی کو ویڈیو کال کرتا۔
شروع کے تین مہینے سب ٹھیک تھا۔ امی دعائیں دیتیں، ابا کہتے بیٹا محنت سے کام کرنا، بہن کہتی بھائی میرے لیے چوڑیاں لانا۔
پھر تیسرے مہینے جب اس نے پہلی تم خواہ 1200 درہم بھیجی، جو پاکستانی تقریباً نوے ہزار بنتے تھے، تو سب بدل گیا۔
اب فون اس کی طرف سے نہیں، گھر سے آتا تھا۔
ایک دن امی کا فون آیا، "بیٹا تمہارے ابا کی طبیعت کافی خراب ہے، وہ ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہیں پیسے بھیج دے۔"
سہیل نے بھیج دیے۔
پھر کچھ دن بعد ابا کا فون، "بیٹا تیرے چھوٹے بھائی کے کالج کی فیس رہتی ہے، جلدی بھیج۔"
سہیل نے وہ بھی بھیج دیے۔
پھر بہن کا فون، "بھائی میری سہیلی کی شادی ہے، سوٹ لینا ہے۔"
سہیل نے رات کو اوور ٹائم لگا کر وہ بھی بھیجا۔
آہستہ آہستہ یہ معمول بن گیا۔ فون آتا تو سہیل کا دل دھڑکتا کہ پھر پیسے مانگیں گے۔ کوئی نہیں پوچھتا تھا، بیٹا تو نے کھانا کھایا؟ تیری طبیعت کیسی ہے؟ تیری کمر کا درد کیسا ہے جو سیمنٹ اٹھانے سے ہوتا ہے؟
ایک رات اسے بہت تیز بخار تھا۔ 104 بخار میں وہ کمرے میں اکیلا پڑا تھا۔ اس نے ہمت کر کے امی کو کال کی۔اس نے سوچا کہ ماں کی اواز سن لوں گا اور ماں میرے کو تسلی دے گی ماں میری طبیعت پوچھے گی، امی نے کال اٹھاتے ہی کہا، "سہیل، اچھا ہوا تو نے کال کی، تیرے ماموں نے قرض مانگا ہے، ذرا پانچ ہزار بھیج دے، ہم بعد میں دے دیں گے۔"
سہیل کی آنکھوں سے آنسو نکل گئے۔ اس نے کہا، "امی میری طبیعت بہت خراب ہے۔"
آگے سے جواب آیا، "ہاں ہاں، گرمی ہے نا وہاں، پانی زیادہ پیا کر۔ اچھا وہ پیسے کب بھیجے گا؟"
سہیل نے کال کاٹ دی اور بہت رویا۔ وہ پردیس میں اکیلا، بیمار، اور گھر والوں کے لیے وہ صرف ایک اے ٹی ایم مشین بن گیا تھا۔ ایک ایسی مشین جس سے صرف پیسے نکلتے ہیں، جس کا دل نہیں ہوتا۔
عید آئی۔ سب مزدور گھر جا رہے تھے۔ سہیل نہیں جا سکا، کیونکہ ٹکٹ بہت مہنگا تھا اور گھر والوں نے کہا تھا، "عید پر پیسے زیادہ بھیجنا، خرچہ ہے۔"
عید والے دن سہیل نے صبح سے کسی کو کال نہیں کی۔ اس نے سوچا دیکھتا ہوں آج کوئی مجھے یاد کرتا ہے کیا؟ شام تک کسی کا فون نہیں آیا۔ آخر اس نے خود امی کو کال کی۔ امی بولی، "بیٹا آج تو عید ہے، تو نے عیدی نہیں بھیجی؟ بچے انتظار کر رہے ہیں۔"
سہیل کا دل ٹوٹ گیا۔ اس نے کہا، "امی میں انسان ہوں، مشین نہیں ہوں۔"
اور فون بند کر دیا۔ اس کے بعد اس نے تین مہینے تک کوئی پیسہ نہیں بھیجا۔ گھر والے ناراض۔ فون پر غصہ، طعنے، "تو بدل گیا ہے، پردیس جا کر ہمیں بھول گیا ہے۔"
تیسرے مہینے گاؤں سے خبر آئی، سہیل کے ابا کو دل کا اٹیک پڑا ہے۔ سہیل پاگلوں کی طرح رویا۔ اس کے پاس ٹکٹ کے پیسے بھی نہیں تھے۔ دوستوں سے ادھار لے کر وہ پاکستان پہنچا۔
جب وہ گھر پہنچا تو دیکھا ابا چارپائی پر لیٹے ہیں، کمزور ہو گئے ہیں۔ ماں رو رہی ہے۔
سہیل دوڑ کر ابا کے سینے سے لگ گیا۔ ابا نے کانپتے ہاتھوں سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پہلی بار کہا، "میرا بیٹا آ گیا، میرا پردیسی بابو آ گیا۔"
ماں نے دیکھا، سہیل کتنا کالا ہو گیا ہے، ہاتھوں پر چھالے ہیں، آنکھوں کے نیچے گڑھے ہیں۔
رات کو سب بیٹھے تھے۔ سہیل نے کچھ نہیں کہا، بس اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی ڈائری نکالی اور امی کو دی۔
اس ڈائری میں ہر دن کا حساب تھا۔
"12 جون - آج ابا کی دوا کے لیے 300 درہم بھیجے، خود دو دن بھوکا رہا۔"
"18 جولائی - بہن کے سوٹ کے لیے اوور ٹائم کیا، بخار میں کام کیا۔"
"عید والا دن - آج سب نے پیسے مانگے،
کسی نے عید مبارک نہیں کہا۔"
ماں ڈائری پڑھتی جا رہی تھی اور روتی جا رہی تھی۔ ابا کی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ رہے تھے۔ چھوٹی بہن نے سہیل کے ہاتھ پکڑ لیے جو پتھر کی طرح سخت ہو گئے تھے۔
اور بہت روئی اپنے بھائی کے ہاتھوں کو بار بار چومتی اور بولتی کہ بھائی اپ اتنی محنت کرتے تھے،اپ کے ہاتھوں میں چھالے ہو گئے ہیں،اور ہمیں تو اپ کی فکر نہیں تھی، ہم بس یہی سمجھتے تھے کہ اپ پیسے کما رہے ہیں اپ کے پاس بہت پیسے اور ہم صرف پیسہ پیسہ پیسہ ہی کرتے رہتے اور اب اتنی تکلیف میں تھے،بھائی ہمیں معاف کر دیں ہمیں اپ کی تکلیف کا احساس نہیں تھا،ہمیں صرف پیسہ ہی نظر اتا تھا، اپنے بھائی کی تکلیف نظر نہیں اتی تھی ،اج اپ کے ہاتھوں پہ اسے چھالے دیکھ کے تو میرا دل ہی پھٹا جا رہا ہے
امی نے روتے ہوئے کہا، "بیٹا ہمیں معاف کر دے، ہم نے تو سمجھا تو باہر مزے کر رہا ہے۔ ہمیں کیا پتہ تھا تو وہاں ہر نوالے کے لیے ترستا ہے۔بھوکا پیاسا دے کے صرف ہمارے لیے پیسے کما رہا ہے، ہم نے تیرے پیسوں سے پیار کیا، تجھ سے نہیں۔"بیٹا ہمیں معاف کر دے
ابا نے کہا، "میں باپ ہو کر بھی اپنے بیٹے کا دکھ نہیں سمجھ سکا۔"
اس رات پہلی بار کسی نے سہیل سے پوچھا، "بیٹا تو نے کھانا کھایا؟ تجھے کیا پسند ہے؟"
سہیل بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ماں کے گلے لگ کے سالوں کا درد آج آنسو بن کر نکل رہا تھا۔ وہ پردیسی بابو جو سب کے لیے نوٹوں کی مشین تھا، آج پھر سے سب کا بیٹا بن گیا تھا۔
جب وہ کچھ دن بعد واپس دبئی جانے لگا تو امی نے اس کے بیگ میں سالن رکھا نہیں، بلکہ ایک چھوٹا سا خط رکھا، "بیٹا، پیسے نہ بھیجنا، بس اپنا خیال رکھنا اور روز کال کرنا، چاہے ایک منٹ کے لیے ہی۔"
اور سہیل سمجھ گیا، اس کی سب سے بڑی کمائی یہی ایک جملہ تھا۔

🥺👍
جواب دیںحذف کریں