خالی گود
،،عورت کی خالی گود،،
سکینہ ایک بہت اچھے گھر کی پڑی لکھی لڑکی تھی اس کے ابو بہت بڑے بزنس مین تھے جو اکثر اپنے کام کے سلسلے میں پاکستان سے باہر رہتے تھے
۔ اس کی ماں بچپن میں ہی اللہ کو پیاری ہو گئی تھی اور باپ نے ہی سکینہ کو ماں بن کے پالا تھا اور اس کی شادی ایک بہت اچھے معزز گھرانے میں کی تھی۔ باپ نے بڑے ارمانوں سے اس کی شادی فاروق سے کی تھی۔ فاروق شہر کے ایک بڑے بینک میں مینجر تھا۔
شادی کے پہلے چند مہینے تو ٹھیک گزرے،فاروق اور اس کے سارے گھر والے سکینہ سے بہت پیار کرتے تھے۔ لیکن پھر ساس نے طعنے دینے شروع کر دیے۔ "ایک سال ہو گیا، ابھی تک گود خالی ہے، پتہ نہیں کیسی بانجھ لڑکی لے آئے ہیں۔" سکینہ دن رات روتی، اللہ سے اولاد مانگتی۔ اس نے حکیموں کے ٹوٹکے بھی کیے، ڈاکٹروں سے دوا بھی لی، لیکن اللہ کی مرضی۔
اس کا شوہر فاروق بھی اب بدل گیا تھا۔ پہلے جو محبت سے بات کرتا تھا، اب ہر بات پر ڈانٹتا۔ "تو تو بانجھ ہے، میرے گھر کا چراغ کون جلائے گا؟ لوگ کیا کہیں گے؟" ساس اور نند تو جیسے اس ظلم میں برابر کی شریک تھیں۔ کبھی کھانے میں نمک زیادہ کا بہانہ، کبھی کام چوری کا الزام۔
آخر ایک دن فاروق نے غصے میں آ کر وہ کام کر دیا جس کا سکینہ نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ اس نے سب کے سامنے کہا، "میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔" تین لفظ، اور سکینہ کی دنیا اجڑ گئی۔ وہ روتی پیٹتی اپنے باپ کے گھر واپس آ گئی۔
باپ نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔ سکینہ نے روتے ہوئے اپنے باپ سے کہا بابا اپ نے مجھے دنیا کی ہر چیز دی ہے میرے پاس کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے پھر میرا نصیب کیوں اتنا خراب نکلا کہ فاروق نے مجھے سب کے سامنے طلاق دے دی مجھے طلاق کا دھبہ لگا دیا،باپ نے روتے ہوئے سکینہ کو کہا"میری بچی، اللہ اللہ بہت بڑا ہے رحم کرنے والا ہے۔" لیکن بیٹی کا غم اور زمانے کے طعنے باپ برداشت نہ کر سکا۔ طلاق کے تیسرے ہی دن اسے دل کا اٹیک پڑا اور وہ بھی اس دنیا سے چلا گیا۔ اب سکینہ بالکل اکیلی رہ گئی تھی۔ نہ ماں، نہ باپ، نہ شوہر، نہ اولاد۔
مجبوری میں اسے اپنی خالہ کے گھر جانا پڑا۔ خالہ نے پہلے تو رکھ لیا، لیکن کچھ ہی دنوں میں اس کے تیور بدل گئے۔ "آ گئی ہے بانجھ، طلاق یافتہ، میرے گلے پڑنے۔ نہ جانے کس منحوس گھڑی میں میرے گھر آئی ہے۔" خالہ کا ہر لفظ سکینہ کے دل پر خنجر کی طرح لگتا۔ وہ سارا دن گھر کا کام کرتی، پھر بھی طعنے سنتی۔ "طلاق لے کر بیٹھ گئی ہے، بانجھ کہیں کی۔"
سکینہ راتوں کو چھت پر بیٹھ کر چاند کو دیکھتی اور سوچتی، "یا اللہ، کیا میرا کوئی اپنا نہیں؟"
اسی محلے میں ایک لڑکا رہتا تھا، دلشاد۔ دلشاد اور سکینہ بچپن سے ہی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے، لیکن دلشاد اپنی غربت کی وجہ سے کبھی کہہ نہیں پایا تھا۔ جب اسے سکینہ کی طلاق اور باپ کی موت کا پتہ چلا تو اس نے اپنی ماں کو سکینہ کے رشتے کے لیے خالہ کے گھر بھیجا۔
خالہ تو جیسے اس بوجھ سے جان چھڑانا چاہتی تھی، فوراً ہاں کر دی۔ سکینہ نے پہلے انکار کیا، "خالہ، میں تو بانجھ ہوں، طلاق یافتہ ہوں، میری زندگی پر داغ ہے۔سکینہ نے دلشاد کو فون کیا اور اس کو بولی دیکھو دلشاد میں ایک طلاق شدہ عورت ہوں، اور مجھے اولاد بھی نہیں ہے،کیونکہ میں بانجھ ہوں، اور بانجھ ہونے کی وجہ سے میرے شوہر فاروق نے مجھے چھوڑ دیا ہے،تم اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو" لیکن دلشاد نے کہا، "سکینہ، اولاد اللہ کی دین ہے، بانجھ کہنا گناہ ہے۔ مجھے تم چاہیے، اولاد نہیں۔"
اور اس طرح سکینہ کی دوسری شادی دلشاد سے ہو گئی۔سکینہ کے باپ کا سارا کاروبار دلشاد ہی سنبھالتا تھا، سکینہ نے اپنی ساری دولت اور اپنے باپ کا سارو کاروبار اپنے شوہر دلشاد کے نام کر دیا تھا، دلشاد غریب ضرور تھا، لیکن دل کا بہت امیر تھا۔دلشاد نے کبھی بھی یہ نہیں چاہا تھا کہ سکینہ اپنے باپ کا سارا بزنس اس کے نام کر دے ساری دولت اس کے نام کر دے وہ تو صرف سکینہ سے سچی محبت کرتا تھا، بچپن سے وہ محبت کرتا ا رہا تھا سکینہ سے اس نے کبھی سکینہ کو اس کے ماضی کا طعنہ نہیں دیا۔ بہت پیار اور عزت سے رکھا۔
شادی کو ابھی دو مہینے ہی ہوئے تھے کہ سکینہ کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ اسے چکر آتے، متلی ہوتی، کھانا اچھا نہ لگتا۔ دلشاد پریشان ہو گیا اور ایک دن سکینہ اچانک بے ہوش ہو گئی،دلشاد اسے فوراً ہسپتال لے گیا۔
ڈاکٹر نے سارے چیک اپ کیے، ٹیسٹ کیے۔ سکینہ ڈری ہوئی تھی کہ کہیں کوئی بڑی بیماری نہ ہو۔ فاروق باہر بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر مسکراتی ہوئی باہر نکلی اور فاروق سے بولی، "مبارک ہو! آپ باپ بننے والے ہیں۔ آپ کی بیوی دو ماہ کی پریگننٹ ہے۔"
یہ سن کر دلشاد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ بھاگ کر اندر گیا اور سکینہ کو گلے لگا لیا۔ سکینہ حیران تھی، اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔ جسے ساری دنیا بانجھ کہتی رہی، جسے اس کے پہلے شوہر نے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے طلاق دے دی تھی، اللہ نے اسے آج اتنی بڑی نعمت سے نواز دیا تھا۔
سکینہ سجدے میں گر گئی اور خوب روئی۔ "یا اللہ، تیرا شکر ہے۔"
وقت گزرا اور اللہ نے سکینہ کو چاند جیسا بیٹا عطا کیا۔ جب اس کے پہلے سسرال والوں کو یہ خبر ملی تو وہ شرمندہ ہوئے۔ فاروق کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
فاروق نے دوسری شادی کی لیکن اس کی دوسری شادی سے بھی اس کی بیوی کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی
سکینہ نے اپنے بیٹے کو گود میں لیا، اس کا ماتھا چوما اور کہا، "میرا چاند، تم اس بات کا ثبوت ہو کہ عورت کبھی بانجھ نہیں ہوتی، یہ تو اللہ کی تقسیم ہے، وہ جب چاہے، جسے چاہے، نواز دیتا ہے۔"
اور اس دن کے بعد سکینہ کی زندگی میں کبھی کوئی غم نہیں آیا۔ اسے ایک محبت کرنے والا شوہر اور چاند جیسا بیٹا مل گیا تھا، جس کے لیے اس نے اتنے ظلم سہے تھے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں