ماں کی 12 عیدیں ایک ماں کی درد بھری کہانی
ماں کا انتظار اپنے بیٹے کے لیے
کراچی کے شہر محلہ سرجانی ٹاؤن میں ایک گلی تھی اس گلی میں ایک کمرے کا چھوٹا مکان تھا اس میں رضیہ نام کی لڑکی اپنے بیٹے عبداللہ کے ساتھ رہتی تھی۔عبداللہ کے سوا اس دنیا میں رضیہ کا کوئی نہیں تھا عبداللہ ہی اس کی زندگی تھا۔اس کی صبح اس کی شام اس کے سب کچھ صرف عبداللہ ہی تھا۔رضیہ کی سانس ہے عبداللہ کو دیکھ کے چلتی تھی۔ رضیہ کا دل عبداللہ کو دیکھ کے دھڑکتا تھا۔ عبداللہ صرف چھ سال کا تھا۔
رضیہ کا شوہر اس کو دو سال پہلے چھوڑ کے چلا گیا تھا۔وہ کہتا تھا رضیہ جب سے تم میری زندگی میں ائی ہو۔ تب سے غربت نے تو میرا دروازہ ہی دیکھ لیا ہے۔اب میں مزید تمہارے ساتھ اپنی زندگی خراب نہیں کر سکتا۔اور میں جا رہا ہوں۔وہ رضیہ کو چھوڑ کے چلا گیا۔اور دوسری شادی کر لی۔رضیہ دوسروں کے گھروں میں کام کر کے ان کے کپڑے برتن صفائیاں کر کے اپنے بیٹے کا پیٹ پال رہی تھی۔
عبداللہ بہت ذہین تھا۔ وہ ماں سے کہتا، "ماما جب میں بڑا افسر بنوں گا نا، تو تمہیں اس ایک کمرے سے نکال کر بڑے گھر میں لے جاؤں گا، جہاں بہت ساری روشنی ہوگی۔"
رضیہ۔اس کی بات پہ ہنس دیتی ہے اور اس کے ماتھے پہ پیار سے بوسہ دیتی۔
پھر ایک منحوس رات آئی۔ عبداللہ کو تیز بخار ہو گیا وہ بخار سے تپ رہا تھا رضیہ اس کو ہر جگہ لے کے گھوم رہی تھی کہ کہیں سے میرا بچہ اچھا ہو جائے، "یا اللہ میرے بیٹے کو بچا لے، میری جان لے لے"۔
صبح ڈاکٹر نے کہا، "اس کے پھیپھڑوں میں انفیکشن ہے۔ اسے بڑے ہسپتال لے جانا پڑے گا، دوائیاں مہنگی ہیں، کم سے کم پچاس ہزار لگے گا، ورنہ یہ بچہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔"
پچاس ہزار؟ رضیہ کے پاس تو 50 روپے نہیں تھے۔وہ ڈاکٹروں کے پیروں میں گر گئی۔اور ڈاکٹر سے کہا ڈاکٹر میرے بچے کو بچا لو اس کے سوا میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے یہی میرا اخری سارہ ہے۔
اسی دن اس کی ساس اور اس کا سابقہ شوہر آئے۔ ساس نے کہا، "دیکھ رضیہ، ہم جانتے ہیں تیرے پاس پیسے نہیں۔ ہمیں عبداللہ دے دے۔ ہم اس کا علاج کرا لیں گے، اسے کراچی کے سب سے اچھے سکول میں ڈالیں گے، اسے باپ کا نام دیں گے۔ تو اسے اپنے ساتھ رکھ کر مار دے گی کیا؟ کیا تو چاہتی ہے تیرا بیٹا مر جائے؟"
رضیہ کا دل پھٹ رہا تھا۔ ایک طرف اس کے جگر کا ٹکڑا تڑپ رہا تھا، دوسری طرف اس کی ممتا تھی۔وہ اپنا بیٹا نہیں دینا چاہتی تھی۔لیکن اس سے اس کا بیٹا چھینا چاہ رہا تھا۔اس کے شوہر نے کہا۔ اگر تجھے اس کی جان پیاری ہے تو اسے ہمارے حوالے کر دے۔"
وہ ساری رات عبداللہ کو سینے سے لگا کر روتی رہی۔ عبداللہ بخار میں بڑبڑا رہا تھا، "ماما مجھے چھوڑ کر مت جانا"۔ رضیہ نے روتے ہوئے کہا، "میں تجھے چھوڑ کر نہیں جا رہی میرے لال، میں خود کو مار کر تجھے زندگی دے رہی ہوں۔"
صبح اس نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے عبداللہ کا چھوٹا سا بیگ بنایا۔ ایک جوڑا کپڑا، ایک ٹوٹی ہوئی چھوٹی گاڑی جس سے وہ کھیلتا تھا۔
جاتے وقت عبداللہ کو جب پتہ چلا کہ ماں ساتھ نہیں جا رہی، تو اس نے رونا شروع کر دیا۔ اس نے رضیہ کی ٹانگیں پکڑ لیں، "ماما! مجھے مت بھیجو! مجھے آپ کے ساتھ رہنا ہے! ماما مجھے لے لو!"۔ رضیہ نے اپنا دوپٹہ منہ میں ٹھونس لیا تھا تاکہ اس کی چیخ باہر نہ نکلے۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کی انگلیاں اپنی ٹانگوں سے چھڑائیں۔ وہ منظر قیامت سے کم نہ تھا۔
گاڑی چلی گئی۔ رضیہ گلی میں اکیلی کھڑی تھی۔ اس کا بیٹا چلا گیا تھا۔ وہ وہیں زمین پر گر گئی اور بے ہوش ہو گئی۔
اس کے بعد سے رضیہ کی زندگی بدل گئی۔ شوہر نے اسے سمجھا دیا تھا۔کہ عبداللہ کو بتایا جائے گا۔ کہ اس کی ماں مر چکی ہے۔ اور واقعی، عبداللہ کو یہی بتایا گیا۔ اسے کہا گیا تمہاری ماں اللہ کو پیاری ہو گئی۔ اسے نئی ماں دے دی گئی۔
رضیہ ہر ہفتے اس سکول کے باہر جاتی جہاں عبداللہ پڑھتا تھا۔ دور ایک درخت کے پیچھے چھپ کر اسے دیکھتی۔ وہ اسے آواز بھی نہیں دے سکتی تھی۔ وہ دیکھتی کہ اس کا بیٹا کیسے بڑا ہو رہا ہے، اس کا قد کیسے بڑھ رہا ہے، لیکن وہ اسے گلے نہیں لگا سکتی تھی۔
اور پھر اس نے ایک کام شروع کیا۔ ہر عید پر وہ عبداللہ کے لیے ایک جوڑا سیدھی اپنے ہاتھوں سے
پہلی عید، اس نے 7 سال کے بچے کا جوڑا سیا۔ دوسری عید، 8 سال کا۔ تیسری عید، 9 سال کا۔ وہ بازار سے اچھا کپڑا لا نہیں سکتی تھی، تو وہ لوگوں کے دیے ہوئے کپڑوں میں سے اچھا کپڑا نکال کر اسے کاٹ کر سیتی۔ ہر جوڑے پر وہ اپنے آنسوؤں سے کڑھائی کرتی۔ ہر جوڑے کو سینے سے لگا کر وہ ساری رات روتی کہ شاید اس کی خوشبو عبداللہ تک پہنچ جائے۔
بارہ سال گزر گئے۔ بارہ عیدیں۔ رضیہ کے پاس بارہ جوڑے جمع ہو گئے۔ اس کی آنکھوں کی بینائی اب کمزور ہو گئی تھی، ہاتھ کانپتے تھے، کمر جھک گئی تھی، لیکن ہر عید پر سوئی میں دھاگہ ڈالنا اس نے نہیں چھوڑا۔
ادھر عبداللہ 18 سال کا ہو گیا تھا۔ اسے اتفاق سے اپنی پرانی الماری میں اپنا بچپن کا وہ بیگ ملا، جس میں وہ ٹوٹی ہوئی چھوٹی گاڑی تھی۔ اس گاڑی کے نیچے ایک پرانا کاغذ تھا، جس پر ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں لکھا تھا، "میرے پیارے بیٹے عبداللہ کے لیے، تمہاری ماما"۔
اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے باپ سے جھگڑا کیا تو سچ باہر آ گیا کہ اس کی ماں اس دنیا میں ہے۔
وہ پاگلوں کی طرح اسی پرانی گلی میں بھاگا۔ وہی پرانا سا ایک کمرے کے مکان کا دروازہ کھلا تھا۔ اندر ایک بوڑھی عورت، جس کے سارے بال سفید تھے، ایک چارپائی پر لیٹی تھی۔ وہ بہت بیمار تھی۔ چارپائی کے نیچے ایک پرانا ٹرنک تھا۔
عبداللہ نے روتے ہوئے کہا، "ماما؟"
رضیہ نے مشکل سے آنکھیں کھولیں۔ اسے دھندلا نظر آ رہا تھا۔ اس نے کہا، "کون؟ عبداللہ ہے؟ میرا عبداللہ آ گیا؟"
عبداللہ اس کے قدموں میں گر گیا، "ماما میں آ گیا، مجھے معاف کر دو، میں آپ کو ڈھونڈتا رہا"۔
رضیہ نے کانپتے ہاتھوں سے ٹرنک کھولا۔ اس میں بارہ جوڑے تہ کر کے رکھے تھے۔ چھوٹے سے لے کر جوان کے۔ ہر جوڑے سے ماں کے آنسوؤں کی خوشبو آ رہی تھی۔
اس نے سب سے بڑا جوڑا نکالا اور عبداللہ کے کندھے پر رکھا، "دیکھ بیٹا... یہ... یہ والی عید کا ہے... مجھے لگتا تھا... تو اس عید پر آئے گا... دیکھ... تجھے پورا آئے گا نا؟"
عبداللہ نے وہ جوڑا اپنے سینے سے لگا لیا اور زور زور سے رونے لگا، "ہاں ماما، پورا آئے گا، بالکل پورا آئے گا"۔
رضیہ نے مسکرا کر اپنے بیٹے کا چہرہ آخری بار دیکھا، اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، اور بولی، "میری بارہ عیدیں... آج پوری ہو گئیں..."۔
یہ کہہ کر اس نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے ہاتھ میں ابھی بھی سوئی دھاگہ تھا، تیرہویں عید کے لیے۔
عبداللہ وہیں بیٹھا اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر روتا رہا۔ اس کے پاس بارہ جوڑے تھے، لیکن ماں نہیں تھی۔

👍👍
جواب دیںحذف کریں