نافرمان بیٹا،
*ماں باپ کا نافرمان بیٹا*
رحمن احمد نے اپنی ساری زندگی اپنے بیٹے فرحان کے لیے وقف کر دی تھی۔ وہ ایک معمولی سے درزی تھے، گاؤں کی چھوٹی سی دکان تھی، مگر ان کے خواب بہت بڑے تھے۔ ان کی بیوی نسرین کے ساتھ ان کی واحد خواہش تھی کہ ان کا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے۔
رحمن احمد نے اپنی ساری خواہشات ختم کر کے اپنے بیٹے کے لیے دن رات محنت کی کئی کئی دن فاقے کاٹے، اپنا پیٹ کاٹ کر گھی کے پیسے بچائے تاکہ فرحان کو شہر کے اچھے کالج میں بھیج سکیں۔ وہ دونوں میاں بیوی رات کو جاگ جاگ کر فرحان کے لیے دعائیں کرتے تھے۔
اللہ نے ان کی سن لی۔ فرحان پڑھائی میں بہت لائق نکلا۔ شہر سے ڈگری لی، پھر اسے شہر ہی میں ایک بڑی کمپنی میں اچھی نوکری مل گئی۔ رحمن اور نسرین کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ ان کا بیٹا کامیاب ہو گیا تھا۔
نوکری کے ایک سال بعد ہی فرحان نے شہر کی ایک پڑی لکھی لڑکی،
۔۔۔ سے پسند کی شادی کر لی۔عائزا خوبصورت تھی، تیز مزاج تھی اور اسے گاؤں کی زندگی سے نفرت تھی۔ شادی کے بعد فرحان ماں باپ کو شہر اپنے فلیٹ میں لے آیا۔ شروع کے چند مہینے تو اچھے گزرے۔
پھر آہستہ آہستہ عائزا کے تیور بدلنے لگے۔ اسے نسرین کا ہر کام برا لگتا۔
"امی، آپ نے پھر سالن میں مرچیں تیز کر دیں۔"
"ابا جی، آپ سارا دن ٹی وی کے سامنے کھانستے رہتے ہیں، مجھے ڈسٹرب ہوتا ہے۔"
رحمن اور نسرین سب کچھ خاموشی سے سن لیتے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی وجہ سے بیٹے کے گھر میں جھگڑا ہو۔
ایک دن فرحان آفس سے تھکا ہارا آیا تو عائزا نے رونا شروع کر دیا۔
"فرحان، میں اس گھر میں نوکرانی بن کر رہ گئی ہوں۔ تمہاری ماں ہر وقت کچن میں رہتی ہے، تمہارا باپ میرے مہمانوں کے سامنے گاؤں کی باتیں کرتا ہے۔ میں اور یہ سب برداشت نہیں کر سکتی۔ تمہیں فیصلہ کرنا ہوگا، میں یا تمہارے ماں باپ۔"
فرحان تھکا ہوا تھا، شیطان نے اس کے دل پر پردہ ڈال دیا۔ اس نے وہی کیا جو ایک نافرمان بیٹا کرتا ہے۔ وہ غصے میں اپنی ماں کے پاس گیا۔
"امی، آپ لوگ گاؤں واپس چلے جائیں۔ آپ یہاں ایڈجسٹ نہیں ہو پا رہیں۔ میں ہر ماہ خرچہ بھیج دیا کروں گا۔"
نسرین کے ہاتھ سے چائے کا کپ گر کر ٹوٹ گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
"بیٹا، ہم جائیں گے کہا؟ وہ گھر تو تم نے بیچ دیا تھا کہ شہر میں فلیٹ لینا ہے۔"
رحمن احمد جو دروازے کے پیچھے کھڑا سب سن رہا تھا، آگے آیا۔ اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا، "بیٹا، ہم تم پر بوجھ ہیں تو بتا دو۔ ہم فٹ پاتھ پر ہی سو جائیں گے، مگر ایسے مت نکالو۔"
اس رات فرحان نے اپنے ماں باپ کا سامان ایک پرانے بیگ میں ڈالا اور انہیں رات کے اندھیرے میں گھر سے نکال دیا۔ عائزا دروازہ بند کرتے ہوئے بولی، "سکون مل گیا۔"
بوڑھے ماں باپ ساری رات سڑک پر بیٹھے رہے۔ نسرین بخار میں تپ رہی تھی۔ رحمن احمد خالی آسمان کو دیکھ کر صرف اتنا کہہ رہا تھا، "یا اللہ، میرے بیٹے کو خوش رکھنا۔"
محلے کی ایک نیک عورت نے انہیں اپنی چھوٹی سی جھونپڑی میں جگہ دی۔ وہیں وہ مزدوری کر کے گزارا کرنے لگے۔
دوسری طرف فرحان کی دنیا بدل گئی۔ اس نے رشوت لینی شروع کر دی، حرام کے پیسے سے بڑا گھر، بڑی گاڑی خرید لی۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہر رات پارٹیاں کرتا۔ اسے لگتا تھا کہ اس نے ماں باپ کی بددعا سے جان چھڑا کر ترقی کر لی ہے۔
مگر اللہ کی لاٹہھی بے آواز ہوتی ہے۔
ایک دن فرحان کی کمپنی میں آڈٹ ہوا۔ رشوت اور فراڈ کا کیس نکلا۔ فرحان کو نوکری سے نکال دیا گیا، اس پر لاکھوں کا جرمانہ ہو گیا۔ اس کا بنایا ہوا بڑا گھر نیلام ہو گیا۔ گاڑی بک گئی۔ جن دوستوں کے ساتھ وہ پارٹیاں کرتا تھا، انہوں نے منہ موڑ لیا۔
اسی دوران عائزا نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔ وہ بچے کو لے کر اپنے میکے چلی گئی اور خلع کا کیس دائر کر دیا۔ اس نے کہا، "میں ایک ناکام اور بے روزگار آدمی کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔"
فرحان سڑک پر آ گیا۔ اس کے پاس کھانے کو پیسے نہیں تھے۔ وہ گلی گلی نوکری کے لیے دھکے کھانے لگا۔ بھوک، بیماری اور ذلت نے اسے توڑ کر رکھ دیا۔
ایک سردی کی رات، جب وہ فٹ پاتھ پر بھوکا بیٹھا کانپ رہا تھا، اسے دور سے ایک جانا پہچانا چہرہ نظر آیا۔ وہ اس کا باپ رحمن احمد تھا، جو اب بہت بوڑھا اور کمزور ہو چکا تھا، ایک ہوٹل سے روٹیاں مانگ رہا تھا۔
فرحان دوڑ کر اس کے قدموں میں گر گیا۔
"ابا... ابا مجھے معاف کر دو... میں برباد ہو گیا... میں نے آپ کے ساتھ بہت ظلم کیا..."
رحمن نے اسے پہچان لیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے غصہ نہیں، صرف باپ کی محبت تھی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے فرحان کو اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔
اسی وقت جھونپڑی سے نسرین بھی باہر آئی۔ اپنے بیٹے کو اس حالت میں دیکھ کر وہ چیخ مار کر رو پڑی۔ "میرا بیٹا... میرا فرحان..."
فرحان اپنی ماں کے قدموں میں گر کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ "ماں، میں نے تمہیں دھکے دے کر نکالا تھا، تم نے پھر بھی مجھے گلے لگا لیا؟"
نسرین نے اس کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا، "بیٹا، ماں باپ کبھی اپنے بچے سے ناراض نہیں ہوتے۔ ہم تو اس دن سے ہر نماز میں صرف تمہاری سلامتی کی دعا کرتے تھے۔"
وہ تینوں ایک دوسرے کو پکڑ کر اس سرد رات میں دیر تک روتے رہے۔ فرحان کو سمجھ آ گیا تھا کہ اس نے دنیا کی سب سے بڑی دولت، ماں باپ کی دعاؤں کو ٹھکرا دیا تھا۔ اور جب وہ دولت چلی گئی تو سب کچھ برباد ہو گیا۔
وہ دن اس کی زندگی کا آخری سبق تھا۔
،،۔ ،سبق،،
یاد رکھو بیوی کے کہنے پر ماں باپ کو چھوڑ دینے والا کبھی اباد نہیں رہتا، بیوی تو دوسرے گھر سے ائی ہے اسے سمجھایا جا سکتا ہے، لیکن جس ماں
باپ نے تمہیں اپنی جوانی دے کر بڑا کیا ہے۔
اگر وہ روٹ گئے تو پھر اللہ بھی اپ سے روٹ جاتا ہے، ماں کے قدموں تلے جنت اور باپ جنت کا دروازہ ہے جب تک یہ دروازہ کھلا ہے اس کی قدر کر لو ورنہ پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں ائے گا
اگر اپ کو میری یہ کہانی اچھی لگی ہے تو کمنٹس میں بتائیں
امبرظفر

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں