بھائی بہن کی عید پر جذباتی ملاقات






سوتیلا بھائی اور دو سال کی ننھی گڑیا

ایک چھوٹا سا لڑکا تھا جس کا نام صاحبان تھا۔ صاحبان کی عمر تقریباً بارہ سال تھی۔ اس کی ایک چھوٹی سی سوتیلی بہن تھی. جس کا نام حریم تھا۔ حریم صرف دو سال کی تھی، بالکل چھوٹی سی گڑیا جیسی۔


صاحبان اپنی بہن سے بے انتہا پیار کرتا تھا۔ جب حریم پیدا ہوئی تھی تو صاحبان نے اسے پہلی بار اپنی گود میں لیا تھا اور تب سے ہی وہ ننھی گڑیا اس کے دل میں بس گئی تھی۔

صاحبان کے ذہن میں کبھی بھی یہ نہیں ایا۔کہ حریم میری سوتیلی بہن ہے۔یہ میرا اپنا خون نہیں ہے۔وہ حریم سے 

بے تحاشہ پیار کرتا تھا۔کوئی سگی بہن سے بھی کیا کرے گا پیار جو صاحبان اپنی سوتیلی بہن حریم سے پیار کرتا تھا۔صاحبان حریم کے لیے دعائیں کرتا تھا۔اللہ پاک سے کے اللہ پاک میری بہن کو صحت والی لمبی زندگی دینا اس کے نصیب اچھے کرنا۔

پھر حالات ایسے بدلے کہ صاحبان کو اپنی نانی کے پاس دوسرے شہر کراچی جانا پڑا۔ اس کی امی لاہور میں حریم کے ساتھ رہتی تھیں۔حریم کے ابو، جو صاحبان کے سوتیلے باپ تھے، صاحبان کو پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ اسے گھر آنے نہیں دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے، تم یہاں مت آیا کرو۔


لیکن صاحبان کا دل ہر روز اپنی بہن کے لیے تڑپتا تھا۔


وہ روز رات کو اپنی امی کو کال کرتا اور ایک ہی بات پوچھتا۔

امی، میری چھوٹی بہن نے آج کھانا کھایا؟ اس نے مجھے یاد کیا؟ وہ آج چلی ہے؟امی حریم کیا کر رہی ہے۔ اس نے آج بھیا بولا؟

مجھے حریم بہت یاد اتی ہے۔امی میرا دل کرتا ہے۔کہ میں اپنی بہن کو سینے سے لگاؤں۔اس کو بہت سارا پیار کروں امی میری یہ جدائی کب ختم ہوگی۔

امی فون پر رو پڑتیں اور کہتیں، ہاں بیٹا، وہ تمہیں ڈھونڈتی ہے،جب بھی کوئی اتا ہے۔فورا دروازے کی طرف دیکھتی ہے اور تمہیں بہت یاد کرتی ہے۔


صاحبان کراچی کی چھت پر بیٹھ کر چاند کو دیکھتا اور سوچتا، کاش میں اڑ کر اپنی بہن کے پاس چلا جاؤں۔یا پھر اللہ پاک کوئی ایسا معجزہ کر دے کہ میں اپنی بہن کے پاس چلا جاؤں۔اس نے اپنی جیب خرچ سے اپنی بہن کے لیے ایک چھوٹی سی لال رنگ کی چوڑی اور ایک ٹیڈی بئیر خرید کر رکھا ہوا تھا۔


وہ اپنی امی سے کہتا، امی، میں بڑا ہو کر بہت سارے پیسے کماؤں گا، بہت اچھی جاب کروں گا، پھر آپ کے اور حریم کے لیے بڑا سا گھر بناؤں گا، جہاں کوئی ہمیں جدا نہیں کرے گا۔ کوئی بھی مجھے میری بہن سے ملنے سے نہیں روکے گا۔اور ہم ہمیشہ ایک ساتھ رہیں گے۔


ایک دن حریم کے ابو نے دیکھا کہ حریم ایک پرانی تصویر پکڑ کر بھائی، بھائی کہہ رہی ہے۔ وہ تصویر صاحبان کی تھی۔ اس دن بھی اس سخت دل انسان کا دل نہ پگھلا۔ اس نے وہ تصویر حریم کے ہاتھ سے لے کر پھاڑ دی۔اور بولے کوئی نہیں ہے تمہارا بھائی۔اس کو بھائی مت بولا کرو وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔


اس بات پر حریم کی امی کو بہت غصہ آیا۔ انہوں نے کہا، آپ نے ایسا کیوں کیا؟ یہ اپنے بھائی سے پیار کرتی ہے۔اور اس کا بھائی بھی اس سے پیار کرتا ہے۔اپ کیوں ان بہن بھائیوں کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔کیوں ان کے دل میں یہ نفرت ڈالنا چاہتا ہے۔کہ یہ ایک دوسرے کے لیے سوتیلے ہیں۔خون کے رشتوں سے زیادہ دل کے رشتے اہمیت رکھتے ہیں۔اور میرے لیے میری دونوں اولاد ایک جیسی ہیں۔حریم کو میں نے پیدا کیا ہے تو صاحبان کو بھی میں نہیں پیدا کیا ہے۔اب عید آ رہی ہے تو میں صاحبان کو یہاں لاہور بلاؤں گی تاکہ وہ اپنی بہن سے مل لے۔


جب صاحبان عید پر لاہور آیا تو دو سال کی حریم نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا۔ وہ بھاگ کر اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ صاحبان نے اسے گود میں اٹھا کر اتنا پیار کیا، اتنا پیار کیا کہ اس کی ساری تڑپ ختم ہو گئی۔


امی نے ان دونوں کو دل سے اپنے سینے سے لگایا۔ صاحبان نے اپنی جیب سے وہ لال چوڑی نکال کر اپنی بہن کے ننھے ہاتھوں میں پہنائی اور اسے اس کا ٹیڈی بئیر دیا۔


وہ منظر دیکھ کر وہاں موجود سب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔وہاں سب کے ہی ہونٹوں پہ صرف ایک ہی دعا تھی کہ یا اللہ پاک ان بہن بھائیوں کو کبھی جدا نہیں کرنا ان کا پیار کبھی کم نہیں کرنا۔ 


*سبق: رشتے خون سے نہیں، دل س بنتے ہیں۔دل سے بنائے ہوئے رشتے کبھی نہیں ٹوٹتے سوتیلا کہہ کر کسی کے سچے پیار کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔* 

 اگر اپ کو میری یہ کہانی پسند ائے تو پلیز کمنٹس میں ضرور بتائیں 

امبر ظفر

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بابا کا خالی کمرہ،، ایک بیٹی کی سچی اور دل کو چھو لینے والی کہانی

اپنوں نے لوٹ لیا ایک سادہ بہن کی سچی کہانی

بچی جو چاند کا انتظار کرتی تھی