سواں پھول جو کبھی کھلا ہی نہیں
*سواں پھول جو کبھی نہیں کھلا*
، کراچی کے شہر محلہ
برابر والے گھر میں سالار نام کا ایک لڑکا رہتا تھا جو اپنے گاؤں سے کراچی میں پڑھنے ایا ہوا تھا۔ سالار وہ لڑکا تھا جو کم بولتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی شرم تھی۔ جب وہ افشا ں کو دیکھتا تو نظریں جھکا لیتا۔
افشاں ایک شام اپنی چھت پہ کھڑی ہوئی تھی کہ سالار بھی اپنی چھت پہ اگیا اس نے افشاں کو دیکھا اور افشاں کو کہا کہ اپ مجھے اچھی لگتی ہیں میں اپ کو پسند کرتا ہوں اور اس نے اپنی جیب سے ایک پھول نکال کے افشاں کو دے دیا اور افشا کو کہا کہ یہ لیں یہ پھول ہے اور جب یہ پورے پھول سو ہو جائیں گے تو میں اپنی امی کو اپ کی امی کے پاس بھیجوں گا اپ کی اور میری شادی کی بات کرنے کے لی
سالار نے کہا میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں روز ایک پھول دوں گا بس تم بھول گنتی رہو جس دن یہ پھول سو ہو جائیں گے تو بس تم میری
افشاں نے وہ پھول لیا اور اپنی ڈائری میں رکھ لیا ۔ اس ڈائری میں اس نے اپنے خواب لکھے ہوئے تھے۔
پھر ہر روز ایک پھول۔
سالار اس کو کبھی گلاب کا پھول دیتا کبھی موتیا کا پھول دیتا پھول کے نیچے افشاں تاریک لکھتی تھی
جنوری، آج سالار نے نیلی قمیض پہنی تھی۔" مارچ، آج امی نے سالار کا نام سن کر مسکرا دیا۔"
پچاس پھول پورے ہوئے تو افشا ں کی ماں بیمار رہنے لگی۔ اسے کھانسی تھی جو رات بھر ختم نہیں ہوتی تھی۔ ایک رات ماں نے افشا ں کا ہاتھ پکڑا اور کہا، "بیٹی، اگر میں نہ رہی تو یہ پھول تمہیں تنہا نہیں ہونے دیں گے۔ سالار اچھا لڑکا ہے، لیکن بیٹی، غریب کی محبت اکثر امیری کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔"
افشا ں نے اپنی ماں کے ہاتھ چومے اور کہا، "امی، ایسا مت کہو، ہم تینوں ایک ساتھ رہیں گے۔"
اسی ویں پھول پر قیامت ٹوٹی
سالار کے چچا گاؤں سے آئے۔ وہ ایک بڑی گاڑی میں آئے تھے۔ انہوں نے کہا، " سالار تمہاری امی کی طبیعت بہت خراب ہے اور تمہیں میرے ساتھ ابھی گاؤں چلنا ہوگا
سالار جانا نہیں چاہتا تھا لیکن مجبوری میں اس کو جانا پڑا۔ وہ رات بھر افشا کی دیوار کے پاس کھڑا رہا۔ صبح جب وہ جا رہا تھا، اس نے افشاں کے ہاتھ میں اسی واں پھول رکھا۔ اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا اس نے افشاں کو کہا کہ یہ میرا اخری پھول نہیں ہے۔ میں وہاں سے بھی بھیجوں گا۔ تم گنتی جاری رکھنا۔
بس 19 اور۔ صرف انیس اور، پھر میں واپس آ کر تمہیں ہمیشہ کے لیے اپنا بنا لوں گا۔ اپنی ماں کا خیال رکھنا اور اپنی امی کی دوا مت بھولنا۔"
افشاں نے وہ پھول اپنے سینے سے لگا لیا۔
پہلے دو ہفتے خط آئے۔ خط کے اندر سوکھا ہوا پھول۔ پھر خط آنا بند ہو گئے۔ سالار کا فون بھی بند آنے لگا۔
اس کے محلے میں میں باتیں پھیلنے لگیں۔ "سالار تو امریکہ چلا گیا ہے.اور وہاں جا کے اس نے اپنی کزن سے شادی کر لی ہے.اور افشا کو چھوڑ دیاہے۔"
افشا ں نے کسی کی نہ سنی۔ یہ ہر شام چھت پر جاتی۔ خود پھول اپنی ڈائری میں رکھ لیتی ہیں۔
اکیاسی، اس نے خود توڑا،اس کی انگلی کانٹے سے چھل گئی، خون نکلا، لیکن اس نے پھول نہ چھوڑا۔
بیاسی، بارش میں بھیگ کر لائی۔
تراسی، چورانوے، پچانوے۔
اس کی ڈائری بھر گئی تھی۔ اس کی ماں کی کھانسی بڑھ گئی تھی۔ دوا کے پیسے نہیں تھے۔ افشاں نے اپنے کان کی بالیاں بیچ دیں۔ لیکن اس نے پھول جمع کرنا نہ چھوڑا۔ کیونکہ وہ پھول صرف پھول نہیں تھے، وہ اس کی سانس تھے۔
ننانوے۔
وہ چھت پر بیٹھ گئی۔ ڈائری اس کی گود میں تھی۔ ننانوے پھول۔ بس ایک اور۔ صرف ایک اور پھول اور اس کا سالار اجائے گا۔ اس کی ماں نے اسے روتے ہوئے دیکھا اور کہا، "بیٹی، اب بس کر دے۔ کوئی نہیں آئے گا۔"
اور پھر اسی دوپہر گلی میں ایک بڑی سفید گاڑی داخل ہوئی۔ شور مچا۔ سالار آیا ہے۔
افشاں دوڑی۔ اس نے جلدی سے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا۔ ہاتھ میں وہ ننانوے پھولوں والی ڈائری پکڑی۔ وہ ننگے پاؤں گلی میں بھاگی۔
سالار گاڑی سے اترا۔ اس نے مہنگا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ آنکھوں پر کالا چشمہ۔ اور اس کے ساتھ ایک لڑکی تھی، شہر کی، خوبصورت، ہاتھ میں مہنگا بیگ۔
افشا میں سامنے آ کر رک گئی۔ اس کی سانس پھول رہی تھی۔
سالار نے اسے دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں وہی پرانا سالار واپس آیا۔ وہی شرم۔ وہی محبت۔
افشا ں نے کانپتے ہوئے ہاتھسالار ڈائری آگے بڑھائی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
"سالار، دیکھو، ننانوے ہو گئے ہیں۔ بس ایک رہ گیا ہے۔ تم آ گئے۔ میرا سواں پھول لے کر ائے؟"
پوری گلی کے لوگ خاموش ہوگئے۔ سب دیکھ رہے تھے۔
سالار نے کچھ نہیں کہا۔ اس کے ساتھ کھڑی لڑکی نے ہنس کر کہا، "یہ کون ہے؟
اور یہ سوکھے ہوئے پتے کیا ہیں؟"
" افشاں، یہ رکھ لو۔ تمہاری امی کی دوا کے لیے۔ میں مجبور ہوں۔ یہ میری منگیتر ہے۔ چاچو کی بیٹی۔ اگر میں نے اس سے شادی نہ کی تو میرے خاندان والے ناراض ہو جائیں گے اور ہم لوگوں کو برادری سے نکال دیا جائے گا۔ مجھے معاف کر دو۔"
پانچ ہزار کا نوٹ ہوا میں لہرا رہا تھا۔
افشاں نے نوٹ نہیں لیا۔ اس نے ڈائری کو اور زور سے سینے سے لگا لیا۔۔
وہ ایک لفظ بھی نہ بولی۔ بس اس کی آنکھوں سے آنسو اس کی ڈائری پر گر رہے تھے، ان ننانوے سوکھے پھولوں پر۔
سالار گاڑی میں بیٹھا اور چلا گیا۔ گاڑی کی دھول میں افشاں کی محبت اس کی چاہت، اس کا انتظار، اس کے سو وعدے سب اڑ گئے۔۔۔۔۔
افشاں وہیں زمین پر بیٹھ گئی۔ اس نے ڈائری کھولیں۔ ننانوے پھول اس نے سوویں صفحے کو دیکھا، جو خالی تھا۔
اس رات اس کی ماں روتے روتے سو گئی۔ افشاں ساری رات جاگتی رہی۔
صبح جب سورج نکلا تو افشاں نے کچھ ایسا کیا جسے دیکھ کر اس کی ماں کی انکھوں میں انسو اگئے ۔۔
اس نے اپنے آنگن والے موتیے کے پودے کو، جو مرجھا چکا تھا، اکھاڑ دیا۔ اور وہاں اس نے اپنی وہ ننانوے پھولوں والی ڈائری کو دفنا دیا۔
ماں نے کہا، "یہ کیا کر رہی ہے پگلی؟"
افشاں نے اپنی آنکھیں صاف کیں، جو رات بھر رونے سے سوجھ گئی تھیں، اور بولی،
"امی، سواں پھول کبھی نہیں آئے گا۔ کیونکہ سواں۔ پھول پھول تھا ہی نہیں۔ سواں پھول میری وہ امید تھی جو مر گئی ہے۔ آج سے میں کسی کے پھول کا انتظار نہیں کروں گی۔ آج سے میں خود اپنا باغ لگاؤں گی۔"
اور اس دن کے بعد گلی والوں نے افشاں کو کبھی روتے نہیں دیکھا۔ وہ یونیورسٹی جانے لگی۔ اس نے نوکری کر لی۔ اس نے اپنی ماں کا علاج کرایا۔ لیکن اس نے آج تک کبھی بھی کسی سے ایک پھول بھی نہیں لیا۔ کیونکہ اس کی ڈائری میں اب بھی ننانوے پھول ہیں،
اور سوویں صفحے پر صرف ایک آنسو کا نشان ہے جو کبھی نہیں سوکھا۔
سالار کے جانے کے بعد افشا کمزور نہیں پڑی بلکہ اس نے اپنا راستہ خود بنایا

👍❤️
جواب دیںحذف کریں