پہلی محبت ادھوری رہ گئی
محبت جو ادھوری رہ گئی |
ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکی رہتی تھی، جس کا نام مریم تھا۔ سادہ سی، سادہ کپڑے پہننا، ہاتھوں میں کتابیں اور آنکھوں میں بڑے بڑے خواب۔ کا خواب تھا ڈاکٹر بننا۔
اسی کالج میں ایک لڑکا پڑھتا تھا، نام تھا بلال۔ امیر گھرانے کا تھا، ہر کوئی اسے جانتا تھا، لیکن دل کا بہت نرم دکھائی دیتا تھا۔
مریم کو پہلی بار بلال نے لائبریری میں دیکھا۔ وہ زمین پر بیٹھی کتاب ڈھونڈ رہی تھی۔ بلال نے آ کر کہا، "کیا میں مدد کر دوں؟"
مریم نے گھبرا کر کہا، "نہیں شکریہ۔" لیکن بلال کو اس کی یہی معصومیت بھا گئی۔
آہستہ آہستہ دونوں میں دوستی ہو گئی۔ نوٹس دینا، ساتھ چائے پینا، ایک دوسرے کا انتظار کرنا۔ مریم کے لیے بلال اس کی دنیا بن چکا تھا۔ بلال بھی کہتا تھا، "مریم تم دوسری لڑکیوں جیسی نہیں ہو، تم میں حیا ہے، تم سچی ہو۔"
ایک دن بارش ہو رہی تھی، کالج میں کوئی نہیں تھا۔ ساحل نے مریم کا ہاتھ پکڑ کر کہا، "مریم کیا تم میری بنو گی؟ میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، میں اپنی امی کو تمہارے گھر بھیجوں گا۔"
مریم
کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے زندگی میں پہلی بار کسی پر اتنا بھروسہ کیا تھا۔ اس نے کہا، "بلال میں تو پہلے ہی تمہاری ہو چکی ہوں۔"
وقت گزرتا گیا۔ مریم نے اپنے خواب بلال کے خوابوں سے جوڑ لیے۔ وہ سوچتی تھی شادی کے بعد ہم دونوں ساتھ پڑھیں گے۔
پھر ایک دن بلال بدلنے لگا۔ اس کا نمبر بند، کلاس میں وہ مریم سے نظریں چراتا۔ مریم پاگلوں کی طرح اس کے پیچھے بھاگتی، "بلال کیا ہوا؟ کیا مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی؟"
ایک دن مریم نے بلال کو دوسری لڑکی کے ساتھ دیکھا، بہت خوبصورت، امیر لڑکی۔ بلال اس کے ساتھ ہنس ہنس کر بات کر رہا تھا۔بہت خوش نظر ا رہا تھا
مریم کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ پاس گئی اور بولی، "بلال یہ کون ہے؟"
بلال نے بڑی بے رحمی سے کہا، "دیکھو مریم تم بہت اچھی لڑکی ہو، لیکن میرے اسٹیٹس کی نہیں ہو۔ میری امی تم جیسی غریب لڑکی کو کبھی قبول نہیں کریں گی۔ میری خالہ کی بیٹی سے میری منگنی ہو گئی ہے۔میری منگیتر امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہی ہے ۔ اور اس کے ابو ایک بہت بڑے بزنس مین ہیں اس سے شادی کے بعد وہ سارے بزنس مجھے ہی سنبھالنا ہے۔ تم اپنا راستہ دیکھو۔"
مریم وہیں زمین پر بیٹھ گئی۔ بارش پھر سے شروع ہو گئی تھی، لیکن آج اسے چھتری دینے والا کوئی نہیں تھا۔
اس کی تو جیسے تم نے ہی ختم ہو گئی تھی۔
وہ گھر آئی تو ماں نے کہا، "مریم کیا ہوا؟" اس نے کچھ نہ کہا، بس کمرے میں جا کر قرآن پاک کھول کر رونے لگی۔ اس رات اس نے اللہ سے ایک ہی دعا کی، "یا اللہ مجھے تھام لے۔"
مریم نے کالج جانا چھوڑ دیا۔ سب کہتے تھے مریم پاگل ہو گئی ہے، لیکن اس کی ماں نے اس کا ساتھ نہ چھوڑا۔
ایک سال بعد۔۔۔
مریم آج ایک سرکاری ہسپتال میں نرس نہیں، بلکہ ڈاکٹر آسیہ بن کر کھڑی تھی۔ سفید کوٹ میں، وہی معصوم چہرہ، لیکن آنکھوں میں آنسو نہیں، ایک عجیب سی طاقت تھی۔
اسی دن ہسپتال میں ایک مریض وہیل چیئر پر آیا۔ اس کی بیوی اسے چھوڑ کر جا چکی تھی، کاروبار میں نقصان ہوا تھا۔ وہ کوئی اور نہیں بلال تھا۔
بلال نے مریم کو دیکھا تو اس کی نظریں جھک گئیں۔وہ بہت شرمندہ ہوا وہ روتے ہوئے بولا، "مریم مجھے معاف کر دو، میں نے تمہیں دھوکہ دیا،میں نے تمہاری اور تمہاری محبت کی قدر نہیں کی۔اللہ نے مجھے سزا دی۔"
میرا سب کچھ ختم ہو گیا۔مجھے بزنس میں بہت بڑا لوس ہوا میری بیوی میرے غربت کی وجہ سے مجھے چھوڑ کے چلی گئی۔اور میں اس بیماری میں مبتلا ہو گیا پلیز مریم مجھے معاف کر دو۔
مریم نے اس کی فائلیں دیکھی، دوا لکھی اور مسکرا کر بولی،میں کون ہوتی ہوں تمہیں معاف کرنے والی معاف کرنے والی ذات تو صرف اللہ پاک کی ہے۔
"بلال میں نے تمہیں اسی دن معاف کر دیا تھا جس دن تم نے مجھے چھوڑا تھا۔ تم نے مجھے توڑا نہیں، بلکہ جوڑ دیا۔ جاؤ، اللہ تمہیں صحت دے۔"
بلال روتا رہا، لیکن مریم اپنی ڈیوٹی پر چلی گئی۔ پیچھے سے ایک مریضہ آواز دے رہی تھی، "ڈاکٹر صاحبہ، بات سنیں۔"
--- یہ سبق ہے
یہ کہانی ہر اس لڑکی کے لیے ہے
جس کو کسی نے ٹائم پاس سمجھا ہو یاد رکھنا کسی کا دیا ہوا دھوکا تمہارے لیے ہار نہیں بلکہ تمہاری سب سے بڑی جیت ہے تمہاری زندگی کی نئی شروعات ہے وہ تمہاری قیمت کم نہیں بلکہ تمہیں یہ سکھا کے جاتا ہے کہ تم اسے کتنی زیادہ قیمتی ہو
اپ کو میری یہ کہانی کیسی لگی پلیز کمنٹس میں ضرور بتائیں
امبرظفر

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں