فرمانبردار بیٹا اور اس کی ماں
*عنوان: فرمانبردار بیٹے کا خواب اور ماں کی دعا
کراچی شہر میں ایک ماں اور اس کا بیٹا رہتے تھے بیٹے کا نام سہبان تھا،وہ بہت ہونہار تھا لڑکا تھا۔ سہبان اپنی ماں کا بہت فرمانبردار بیٹا تھا اسکول میں محلے میں رشتے داروں میں سب جگہ اس کی تعریف ہوتی تھی سب یہی کہتے تھے کہ سہبان اپنی ماں کا فرمانبردار بیٹا ہے اور سہبان کی ماں کو بھی اس بات پہ بہت فخر ہوتا تھا، کہ اس کا بیٹا اس کا فرمانبردار ہے، اس کی ہر ایک بات مانتا ھے، سہبان کو بچپن سے ہی موٹر سائیکل کا بہت شوق تھا۔ گلی میں جب بھی کوئی رائیڈر تیز رفتار بائیک پر گزرتا، سہبان کی آنکھیں چمک اٹھتیں۔ وہ گھنٹوں تک اس بائیک کو دیکھتا رہتا اور دل ہی دل میں سوچتا کہ ایک دن وہ بھی ایک مشہور رائیڈر بنے گا، لوگ اس کے نام سے اسے پہچانیں گے، اس کی تصویریں اخبار میں چھپیں گی۔
اس کی ماں ایک بہت سادہ اور نیک دل خاتون تھی۔ اس کے والد کا انتقال سہبان کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ ماں نے بڑی محنت اور قربانیوں سے اسے پالا تھا۔ وہ سلائی کڑھائی کر کے، لوگوں کے کپڑے سی کر سہبان کی سکول کی فیس بھرتی تھی۔ اس کی ایک ہی خواہش تھی کہ اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر کوئی بڑا آدمی بنے، اس کے باپ کا نام روشن کرے۔
سہبان جب ساتویں جماعت میں تھا تو اس نے اپنی ماں سے کہا، "امی جان، میں بڑا ہو کر رائیڈر بنوں گا۔"
ماں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور مسکرا کر کہا، "بیٹا، رائیڈر بننا برا نہیں ہے، لیکن اس سے بڑی ریس بھی ہوتی ہے۔"
سہبان حیران ہوا، "وہ کون سی ریس ہے امی جان؟"
ماں نے کہا، "بیٹا، وہ زندگی کی ریس ہے۔ بائیک کی ریس میں تو تم چند منٹ کے لیے جیتتے ہو، لیکن زندگی کی ریس میں جو جیتتا ہے، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور زندگی کی ریس تعلیم، عزت اور والدین کی دعا سے جیتی جاتی ہے۔"
سہبان کو اس وقت ماں کی بات پوری طرح سمجھ نہیں آئی، لیکن ماں کی آنکھوں میں اپنے لیے جو پیار اور فکر دیکھی، اس نے اس کا دل ہلا دیا۔
وقت گزرتا گیا۔ سہبان نے میٹرک میں بہت اچھے نمبر لیے اس نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ سب لوگوں اس کی ماں کو مبارکباد دی۔ اس دن سہبان نے اپنی ماں کی آنکھوں میں جو خوشی دیکھی، وہ آج تک کسی ریس کو جیت کر بھی نہیں دیکھی تھی۔ اسی دن اس نے دل میں ایک فیصلہ کر لیا۔
اس نے اپنا رائیڈر بننے کا خواب ایک صندوق میں بند کر دیا اور اپنی ماں کے خواب کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ اس نے دن رات محنت شروع کر دی۔ کبھی کبھی اس کا دل چاہتا کہ وہ دوستوں کے ساتھ بائیک پر سیر کو جائے، لیکن پھر اپنی ماں کا تھکا ہوا چہرہ یاد آتا تو وہ کتاب کھول کر بیٹھ جاتا۔
ماں بھی اس کی اس قربانی کو دیکھ رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے بیٹے نے اس کے لیے کتنی بڑی قربانی دی ہے۔ وہ ہر نماز کے بعد اس کے لیے رو رو کر دعا کرتی، "یا اللہ، میرے بیٹے نے اپنی خواہش قربان کر کے میری خواہش پوری کی ہے، تو اس کو ایسی کامیابی دے کہ دنیا دیکھے۔"
پھر وہ دن بھی آ گیا جس کا اس کی ماں کو سالوں سے انتظار تھا۔ سہبان نے یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم مکمل کی اور اسی شہر میں ایک بڑے ادارے میں اس کی نوکری لگ گئی۔ اس کی ایمانداری اور محنت کی وجہ سے وہ جلد ہی اس ادارے کا مینیجر بن گیا۔ اب پورا شہر اس کی عزت کرتا تھا۔
جس دن اسے پہلی سیلری ملی، وہ سیدھا اپنی ماں کے پاس آیا۔ اس نے سیلری والا لفافہ اپنی ماں کے ہاتھ میں رکھا اور اس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
اس کی ماں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، "میرے لال، اصل ریس تو زندگی کی ریس ہوتی ہے۔ تم نے اپنی خواہش کو قربان کر کے میری خواہش پوری کی، اللہ تمہیں اس کا بہت بڑا اجر دے گا۔"
سہبان نے اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھتے ہوئے کہا، "امی جان، یہ سب آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ اگر میں رائیڈر بن جاتا تو شاید چند لوگ ہی مجھے جانتے، لیکن آج آپ کی وجہ سے پورا شہر میری عزت کرتا ہے۔ اصل کامیابی تو والدین کی دعا میں ہے۔"
ماں نے روتے ہوئے کہا، "بیٹا، تم سمجھتے ہو کہ قربانی میں نے دی ہے، لیکن قربانی تو میں نے نہیں دی؟ میں نے تمہیں رائیڈر بننے سے روکا، لیکن اللہ نے تمہیں اس سے ہزار گنا بہتر مقام دیا ہے۔"
بیٹا میں تو یہی کہہ دی تھی کہ جو بھی کوئی تمہیں دیکھے وہ یہی بولے کس ماں کا ایسا بیٹا ہے کہ جس ماں نے اتنی پیاری تربیت کری ہے وہ کس ماں کا ایسا لال ہے ایسا دلارا رہا ہے
اور اس طرح ایک فرمانبردار بیٹے نے اپنا بچپن کا شوق چھوڑ کر اپنی ماں کے خواب کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا اور ایک کامیاب انسان بن کر دکھایا۔
*اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے:*
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ والدین کی فرمانبرداری میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی چھپی ہوئی ہے۔ وقتی شوق اور خواہشات تو ختم ہو جاتی ہیں، لیکن ماں باپ کی دعائیں ہمیشہ ساتھ رہتی ہیں۔
ماں کے پیروں کے نیچے تو جنت ہے۔ عورت رحمت بن کے آتی ہے اور جنت بن کے اس دنیا سے جاتی ہے۔ اپنی ماں کی عزت کرو، اپنی ماں کی فرمانبرداری کرو، کیونکہ ماں کی دعاؤں سے تو تقدیر بھی بدل جاتی ہے۔ جو شخص اپنی ماں کو خوش رکھتا ہے اللہ اسے دین و دنیا کی ہر بھلائی میں کامیاب کرتا ہے
اپ کو میری یہ کہانی کیسی لگی پلیز کمنٹس کر کے مجھے لازمی بتائیں
امبر ظفر

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں