وہ اخری معافی،




*عنوان: وہ آخری معافی*

  میرے گاؤں فیصل اباد میں، ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام فیصل تھا۔ فیصل بچپن سے ہی بہت ذہین اور سلجھا ھوا  لڑکا تھا۔ اسی گاؤں میں اس کے گھر کے سات ایک لڑکی رہتی تھی جس کا نام نورین تھا۔ دونوں ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے، ایک ہی گلی میں کھیل کر بڑے ہوئے تھے۔ بچپن کی یہ دوستی کب محبت میں بدل گئی، دونوں کو پتہ ہی نہیں چلا۔


فیصل نورین سے بے بے تحاشہ دیوانگی کی حد تک محبت کرتا تھا۔ وہ صبح اسکول جانے سے پہلے اس کے گھر کے سامنے سے گزرتا، صرف ایک نظر دیکھنے کے لیے۔کبھی نورین کی طبعت خراب ہو جاتی تو اس کو ڈاکٹر کے پاس لے کے جاتا ہے اس کو میڈیسن دلاتا اور ساری رات جاگ کر اللہ پاک سے اس کے لیے دعا کرتا کہ یا اللہ پاک نورین کو صحت والی لمبی کی زندگی دے اس کو جلدی اچھا کر دے ۔ نورین کو جو چیز پسند ہوتی، فیصل اپنی جیب خرچ جمع کر کے لے آتا۔ نورین کی ناراضگی اس کے نخرے اس کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش۔اس کی ہنسی، اس کے بعد کرنے کا انداز اسکے لیے بہت قیمتی تھا۔


لیکن نورین اس محبت کو کچھ اور سمجھتی تھی۔ اسے لگتا تھا فیصل تو اس کا دیوانہ ہے اس سے محبت کرتا ہے اس کے چھوڑ کے کہاں جائے گا نہیں۔ اس لیے وہ اس کی قدر نہیں کرتی تھی۔ کبھی جان بوجھ کر نظر انداز کر دیتی، کبھی اس کی کال ریسیو نہیں کرتی تھی اس کے میسج تک کا جواب نہیں دیتی تھی، کبھی جھوٹ بول دیتی۔ میں کام کر رہی تھی اس لیے میسج نہیں کیا نہ ہی کال ریسیو کی فیصل کو اس کی اس بات سے بہت تکلیف ہوتی، لیکن وہ خاموشی سے سہہ جاتا۔ اسے لگتا تھا کہ اگر اس کی محبت سچی ہے تو نورین کو ایک نیا ایک دن احساس ضرور ہوگا اور وہ اس کی محبت کو ضرور سمجھے گی۔


وقت گزرتا گیا۔ دونوں جوان ہو گئے۔ ایک دن فیصل کے گھر والے نورین کے گھر اس کا رشتہ لے کے گئے لیکن نورین کے گھر والوں نے اس رشتے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کے فیصل کی تو کوئی اچھی جاب بھی نہیں ہم یہ رشتہ نہیں کر سکتے۔ وہ کہتے تھے فیصل غریب ہے، اس کا کوئی مستقبل نہیں۔ انہوں نےشہر میں ایک اچھے اور امیر گھرانے میں نورین کا رشتہ طے کر دیا۔ لڑکا شہر میں نوکری کرتا تھا، پیسے والا تھا۔


جب نورین کو اس رشتے کا پتہ چلا تو اس نے پہلے انکار کیا کہ میں فیصل کو پسند کرتی ہوں۔اور اس سے ہی شادی کروں گی، لیکن پھر ماں نے سمجھایا کہ بیٹی زندگی پیار سے نہیں پیسے سے چلتی ہے۔ شہر میں بڑا گھر ہوگا گاڑی ہوگی بہت سارا پیسہ ہوگا، م۔ آرام کی زندگی ہوگی۔ نورین کے دل میں لالچ اگیا اس نے سوچا کہ فیصل کے پاس ہے  نہ اچھا گھر ہے نہ گاڑی ہے اور نہ اچھی جاب ہے۔اس کے ساتھ غربت میں زندگی گزارنے سے سے بہتر ہے شہر میں شادی کر لیتی ہوں ۔

نورین نے فیصل کی محبت اس کی چاہت اس کے جذبات سب کچھ بھلا کے شادی کے لیے ہاں کر دی۔

فیصل کو جب یہ پتہ لگا کہ نوری نے شادی کے لیے ہاں کر دی ہے تو وہ نورین کے پاس پاس آیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے نورین کے سامنے ہاتھ جوڑے بہت زیادہ رویا اور نورین کو کہا کہ نورین تم شہر میں شادی نہیں کروں، میں تمہارے بغیر نہیں رہ پاؤں گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں دن رات محنت کروں گا وہ سارا پیسہ کماؤں گا اور شہر میں بہت عالی شان تمہیں گھر بناؤں گا تو میں ہر خوشی دوں گا تمہیں خوش رکھوں گا۔


نورین نے ہاتھ چھڑا لیے۔ اس نے بے رخی سے کہا، فیصل یہ صرف پیار ہے، پیار سے پیٹ نہیں بھرتا۔ زندگی میں پیار ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ مجھے اپنی زندگی بنانی ہے۔ تم مجھے بھول جاؤ۔ یہ کہہ کر وہ اندر چلی گئی اور دروازہ بند کر دیا۔ فیصل وہیں گلی میں کھڑا رہ گیا۔ اس دن اسے لگا اس کی ساری محبت، اس کا سارا انتظار بیکار چلا گیا۔


نورین کی شادی ہو گئی اور وہ شہر چلی گئی۔ فیصل گاؤں میں اکیلا رہ گیا۔ اس نے کسی سے شکوہ نہیں کیا، کسی کو برا نہیں کہا۔ بس وہ بالکل خاموش ہو گیا۔ پہلے وہ سب سے ہنستا بولتا تھا، اب وہ دن بھر کھیتوں میں کام کرتا اور شام کو اپنی چھوٹی سی چھت پر بیٹھ کر دور دیکھتا رہتا۔ نہ وہ ٹھیک سے کھانا کھاتا، نہ سوتا۔ دوستوں نے بہت سمجھایا، لیکن اس کے دل کا زخم بہت گہرا تھا۔


کچھ مہینے گزرے۔ شہر میں نورین کی زندگی دیکھنے میں تو بہت اچھی تھی۔ بڑا گھر، ساری سہولتیں، لیکن دل میں ایک خالی پن تھا۔ اس کا شوہر اچھا تھا، لیکن وہ فیصل جیسی محبت نہیں دیتا تھا۔ وہ اس کے نخرے نہیں اٹھاتا تھا، اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال نہیں رکھتا تھا۔ تب اسے احساس ہونے لگا کہ اس نے کیا کھو دیا ہے۔ اسے راتوں کو نیند نہیں آتی تھی۔


ایک دن نورین کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ فیصل بہت بیمار ہے۔ کئی دنوں سے بخار میں تپ رہا ہے اور کسی سے بات بھی نہیں کرتا۔ نورین کا دل کانپ گیا۔ اس نے شوہر سے کہا اسے گاؤں جانا ہے۔ وہ صبح گاؤں کے لیے نکل گئی۔


جب وہ گاؤں پہنچی تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ اپنی محبت اپنی چاہت اپنی خوشیاں اپنا غم لے کے اللہ کو پیارا ہو چکا تھا۔ اسے آج صبح ہی دفنایا گیا تھا۔ یہ سنتے ہی نورین کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ روتی ہوئی دیوانہ وار قبرستان کی طرف بھاگی۔


قبرستان میں ایک نئی قبر تھی، جس کی مٹی ابھی بھی گیلی تھی۔ لوگ واپس جا چکے تھے۔ نورین اس قبر پر گر گئی۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے قبر کی گری مٹی کو پکڑ لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس کے آنسو مٹی میں مل رہے تھے۔ وہ زور زور سے رو کر کے رہی تھی، فیصل اٹھ جاؤ، دیکھو میں آ گئی ہوں۔ میں تمہاری نورین۔ مجھے معاف کر دو میں نے پیسے کو اہمیت دی تمہاری محبت کو نہ سمجھیں مجھے معاف کر دو۔

لیکن قبر خاموش تھی۔ وہ خاموشی جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ گاؤں کی ایک  عورت بولی، بیٹی جب وہ اس دنیا میں تھا اسی راستے پہ بیٹھا رہتا تھا۔روز اسی راستے کو دیکھتا تھا۔ جس سے تم شادی ہو کر شہر گئی تھی۔ مرنے سے پہلے بھی اس نے تمہارا ہی نام لیا تھا۔


اس رات نورین قبر پر ہی بیٹھی رہی۔ سرد ہوا چل رہی تھی۔ اس نے سوچا کاش وقت واپس آ جائے، کاش وہ فیصل کا ہاتھ نہ چھوڑتی۔ لیکن وقت کسی کے لیے نہیں رکتا جو چلے جاتے ہیں وہ کب واپس اتے ہیں۔


وہ قبر کی مٹی کو چوم رہی تھی۔ گاؤں کے لوگ دور کھڑے دیکھ رہے تھے۔ کسی کی آنکھ خشک نہیں تھی۔ سب سوچ رہے تھے کہ انسان کی اور اس کی محبت کی قدر زندگی میں کرنی چاہیے۔ مرنے کے بعد صرف اور صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے۔اور کچھ نہیں جانے والے واپس نہیں اتے۔


*سبق: جو محبت اپ کو سچے دل بنا کسی لالچ کے مل رہی ہے، اس کی قدر اس کے ہوتے ہوئے کر لو۔ جب وہ چلی جاتی ہے تو پھر قبر پر بہائے گئے آنسو کسی کو واپس نہیں لاتے۔ وقت پر قدر کرنا سیکھو۔*


،"اگر اپ کو میری یہ کہانی پسند ائی تو پلیز مجھے کمنٹس میں ضرور بتائیں 

امبرظفر 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بابا کا خالی کمرہ،، ایک بیٹی کی سچی اور دل کو چھو لینے والی کہانی

اپنوں نے لوٹ لیا ایک سادہ بہن کی سچی کہانی

بچی جو چاند کا انتظار کرتی تھی