سچی محبت کا درد بھرا انجام،
،،سچی محبت کا انجام،،
*اس کا نام علی تھا۔*
اور پھر اس کی زندگی میں فاطمہ آئی۔
فاطمہ... کالج کے پہلے دن، سفید لباس میں، ہاتھ میں کتابیں، اور آنکھوں میں ایک ایسی اداسی جس نے علی کا دل چیر دیا تھا۔ وہ ہنستی بھی تھی تو لگتا تھا جیسے رو رہی ہے۔
علی کو پہلی نظر میں فاطمہ سے محبت ہو گئی۔ ایسی محبت جو آج کل کے دور میں صرف بے وقوفی کہلاتی ہے۔
آہستہ آہستہ بات شروع ہوئی۔ نوٹس کے بہانے، کلاس کے بہانے، چائے کے بہانے۔ فاطمہ بھی علی سے بات کرنے لگی۔ وہ کہتی تھی، تم باقی لڑکوں جیسے نہیں ہو۔ تمہاری آنکھوں میں لالچ نہیں، سچائی ہے۔
علی نے اپنی پوری زندگی اس ایک جملے پر وار دے دی۔
تین سال۔ پورے تین سال علی نے فاطمہ کی پوجا کی۔
اس نے خود کبھی نیا جوڑا نہیں لیا لیکن زینب کی سالگرہ پر اپنی جیب کے سارے پیسے جمع کر کے اس کے لیے انگوٹھی لے آیا۔ چھوٹی سی، سستی سی، لیکن اس کی محبت سے بھری ہوئی۔ فاطمہ نے وہ انگوٹھی پہنی اور کہا، علی، یہ میری زندگی کی سب سے قیمتی چیز ہے۔
علی راتوں کو جاگ جاگ کر اس کے امتحانوں کے لیے نوٹس بناتا تھا۔ فاطمہ بیمار ہوتی تو وہ ہسپتال کے باہر گھنٹوں کھڑا رہتا، اندر جانے کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ لوگ کیا کہیں گے، بس باہر سے ہی دعا کرتا رہتا۔
اس کی ماں کہتی تھی، بیٹا، یہ محبت تجھے کھا جائے گی۔ تو اس لڑکی کے پیچھے اپنی زندگی برباد کر رہا ہے۔
علی ہنستا اور کہتا، امی، فاطمہ بے وفا نہیں ہے۔ وہ سب لڑکیوں جیسی نہیں ہے۔ وہ مجھ سے وعدہ کر چکی ہے۔ ہم شادی کریں گے۔ میں نوکری لگ جاؤں تو اس کے گھر رشتہ بھیجوں گا۔
فاطمہ نے بھی تو وعدے کیے تھے۔ اس نے علی کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا، علی، چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے، میں صرف تمہاری ہوں۔تم سے ہی شادی کروں گی، میرے ماں باپ جہاں بھی میرا رشتہ کریں، میں انکار کر دوں گی۔ میں مر جاؤں گی لیکن کسی اور کی نہیں بنوں گی۔
علی نے ان وعدوں کو سچ سمجھ کر اپنے دل پر لکھ لیا تھا۔
پھر کالج ختم ہو گیا۔
فاطمہ کا رویہ بدلنے لگا۔ وہ اب فون کم اٹھاتی۔ ملنے سے کتراتی۔ ہر بار ایک نیا بہانہ۔ امی بیمار ہیں۔ کزن آئے ہوئے ہیں۔ پڑھائی میں مصروف ہوں۔
علی بے چین رہنے لگا۔ وہ اس کے گھر کے چکر لگاتا، گلی کے باہر کھڑا رہتا، صرف ایک جھلک دیکھنے کے لیے۔ اس کی آنکھیں اندر دھنس گئیں، چہرہ پیلا پڑ گیا۔
ایک دن علی نے اسے کسی اور کے ساتھ دیکھا۔
ایک بڑی سی گاڑی میں، ایک امیر لڑکے کے ساتھ۔ فاطمہ ہنس رہی تھی۔ ایسا ہنسنا علی نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ قہقہہ لگا کر ہنس رہی تھی، اس کے بال کھلے تھے، اور اس کی انگلی میں علی والی انگوٹھی نہیں تھی۔ اس کی جگہ ایک مہنگی سی سونے کی انگوٹھی تھی۔
علی کا دل وہیں ٹوٹ گیا۔ لیکن پھر بھی اس بے وقوف نے دل کو سمجھایا، نہیں، یہ اس کا کزن ہوگا۔ فاطمہ ایسی نہیں ہے۔
اس رات اس نے فاطمہ کو فون کیا اور روتے ہوئے پوچھا، فاطمہ، وہ لڑکا کون تھا؟
فاطمہ پہلے تو خاموش رہی، پھر بولی، علی، تم مجھے سمجھنے کی کوشش کرو۔
کیا سمجھوں؟ علی چلایا۔
فاطمہ نے ٹھنڈے لہجے میں کہا، جس لہجے میں وہ کبھی علی سے بات نہیں کرتی تھی۔ علی، محبت سے گھر نہیں چلتے۔ تم ایک غریب لڑکے ہو۔ تمہارے پاس کیا ہے؟ ایک چھوٹا سا گھر اور ایک پرائیویٹ نوکری کا خواب؟ میرا رشتہ آ رہا ہے۔ لڑکا کینیڈا میں ہوتا ہے۔ میرا پورا خاندان خوش ہے۔ میں انکار نہیں کر سکتی۔
علی کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ اس نے کہا، اور ہمارے وعدے؟ وہ انگوٹھی؟ وہ تین سال؟
فاطمہ ہنسی، ایک بہت ہی خطرناک ہنسی۔ علی، تم کتنے بچے ہو۔ وہ سب تو بس وقت گزاری تھی۔ٹائم پاس تھا یار۔ کالج میں سب کرتے ہیں۔اس لیے میں نے بھی کیا تم سے نوٹس بنوانے تھے۔تو اس لیے تم میرے کام اتے تھے۔ بس اور کچھ بھی نہیں تم نے اس کو سچ سمجھ لیا؟ پلیز اب مجھے فون مت کرنا۔ میرے ہونے والے شوہر کو اچھا نہیں لگے گا۔
فون کٹ گیا۔
علی نے پھر فون کیا، نمبر بند۔ میسج کیا، جواب نہیں۔ وہ اس کی گلی میں گیا تو فاطمہ کی ماں نے دروازے سے ہی کہہ دیا، بیٹا، اب یہاں مت آنا۔ ہماری بیٹی کی منگنی ہو گئی ہے۔
منگنی ہو گئی۔
وہ انگوٹھی جو علی نے اپنی ماں کی دوائی کے پیسوں سے لے کے دی تھی، وہ فاطمہ نے وقت گزاری کہہ کر پھینک دی۔
آج دو سال ہو گئے ہیں۔
فاطمہ کینیڈا میں بہت خوش ہے۔ اس کی تصویریں فیس بک پر آتی ہیں، بڑی گاڑیوں کے ساتھ، بڑے گھروں کے ساتھ، مہنگے کپڑوں میں۔ اس کے چہرے پر وہی ہنسی ہے۔
اور علی؟
علی آج بھی اسی گلی میں رہتا ہے۔ اسی پرانی نوکری پر جاتا ہے۔ اس کی ماں اب اس کے لیے زیادہ دعا کرتی ہے۔ وہ رات کو جب سب سو جاتے ہیں تو چھت پر جاتا ہے اور آسمان کو دیکھ کر صرف ایک ہی نام لیتا ہے۔ فاطمہ۔
اس نے شادی نہیں کی۔ اس کی ماں نے بہت کہا، لیکن وہ کہتا ہے، امی، دل ایک بار ہی دیا جاتا ہے۔ میں نے اپنا دل دے دیا۔ اب میرے پاس دوسرا دل نہیں ہے کسی اور کو دینے کے لیے۔
وہ آج بھی اس سستی سی انگوٹھی کو، جو فاطمہ نے واپس کر دی تھی، اپنی جیب میں رکھتا ہے۔ جب دل بہت دکھتا ہے تو اس انگوٹھی کو ہاتھ میں لے کر رو لیتا ہے۔
وہ تڑپتا ہے۔ روز تڑپتا ہے۔ اس کی محبت سچی تھی، اس لیے اس کا دکھ بھی سچا ہے۔ اور وہ لڑکی؟ وہ تو اپنا گھر بسا کر بھول گئی کہ کوئی علی نام کا لڑکا بھی تھا جس نے اسے اپنی دنیا سمجھا تھا۔
علی روتا ہے۔تڑپتا ہے کسی کو بھی اپنا دکھ نہیں سناتا کسی کو بھی اپنا دکھ نہیں بتاتا بس وہ اللہ پاک سے یہی کہتا ہے۔یا اللہ پاک میں نے محبت کی سچی محبت کی اتنا دکھ اتنا درد یا میرے اللہ مجھے صبر دے دے۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے
،،سبق،،
یہی تو محبت کا انجام ہوتا ہے۔ ایک آباد ہو جاتا ہے، دوسرا برباد۔
اپ کو میری ایک کہانی کیسی لگی کمنٹس میں ضرور بتائیں
امبرظفر

Nice
جواب دیںحذف کریں