ساس بہو، کا پیارا رشتہ،


 


*، ساس بہو کا رشتہ*


صابرہ بیگم کے تین بیٹے تھے۔ دو بیٹوں کی شادی ہو چکی تھی اور دونوں بہوئیں اپنے اپنے گھروں میں خوش تھیں۔ سب سے چھوٹے بیٹے عادل کی شادی باقی تھی۔ صابرہ بیگم اکثر سوچتی تھیں کہ جب عادل کی شادی ہوگی تو وہ اپنی بہو کے ساتھ کیسا سلوک کریں گی۔


انہوں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھا تھا۔  جب وہ خود اس گھر میں نئی دلہن بن کر ائی تھی, تو ان کے ساتھ کتنا سختی والا سلوک ہوا تھا, ان کی ساس ان کے ساتھ ان کو کتنا سختی کرتی تھی،  گھر میں آئی تھیں، تو ان کی ساس نے ان پر بہت سختی کی تھی۔ بات بات پر طعنے، کام میں نقص نکالنا، کبھی خوشی سے رہنے نہیں دیا۔ وہ دن آج بھی ان کے دل میں کانٹے کی طرح چبھتے تھے۔ تب ہی انہوں نے اپنے دل میں ایک عہد کیا تھا کہ اگر اللہ نے انہیں کبھی بہو دی تو وہ اسے بہو نہیں، بیٹی بنا کر رکھیں گی۔


آخر کار عادل کی شادی کا دن آ گیا۔ عادل کی دلہن کا نام زارا تھا۔ زارا ایک غریب گھرانے کی بہت پیاری، معصوم اور نیک سیرت لڑکی تھی۔ وہ اپنی ماں کی اکلوتی بیٹی تھی اور شادی کے نام سے ہی گھبراتی تھی، کیونکہ اس نے بھی محلے میں ساس بہو کے جھگڑے سن رکھے تھے۔


جب زارا دلہن بن کر گھر آئی تو اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ صابرہ بیگم نے اسے دیکھا، مسکرائیں اور آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔ سب لوگ حیران رہ گئے۔ صابرہ بیگم نے سب کے سامنے کہا، "آج سے میرے گھر میں ایک اور

 بیٹی آ گئی ہے، بہو نہیں آئی۔"


یہ سن کر زارا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ آنسو خوف کے نہیں، خوشی کے تھے۔


پہلے دن ہی صابرہ بیگم نے زارا سے کہا، "بیٹا، تمہیں صبح جلدی اٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تمہاری ماں نے تمہیں آج تک لاڈوں سے پالا ہے، میں یہ لاڈ ختم نہیں ہونے دوں گی۔ جب دل کرے اٹھ جانا، یہ تمہارا اپنا ہی گھر ہے۔"


زارا کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ کوئی ساس اتنی اچھی بھی ہو سکتی ہے۔


آہستہ آہستہ دن گزرنے لگے۔ صابرہ بیگم زارا کا بہت خیال رکھتیں۔ اگر زارا کو نزلہ زکام بھی ہو جاتا تو صابرہ بیگم ساری رات اس کے پاس بیٹھی رہتیں، اس کے سر پر ہاتھ پھیرتیں، اس کے لیے جوشاندہ بناتیں۔ کبھی اپنے ہاتھ سے اسے کھانا کھلاتی۔


زارا کو اچار بہت پسند تھا۔ ایک دن اس نے باتوں باتوں میں کہا کہ امی کے گھر میں وہ ہر کھانے کے ساتھ اچار کھاتی تھی۔ صابرہ بیگم نے اگلے ہی دن بازار سے سات قسم کے اچار منگوا لیے اور کہا، "میری بیٹی کو جو پسند ہے، وہ اس گھر میں ضرور آئے گا۔"


    ایک دن صابرہ بیگم کے پاس محلے کی چند عورتیں ائی،اور بولنے لگی "صابرہ، تم بہو کو اتنا سر پر کیوں چڑھاتی ہو؟ کل کو تمہیں آنکھیں دکھائے گی۔ بہو کو قابو میں رکھنا چاہیے۔"


صابرہ بیگم ہنس کر جواب دیتیں، "میں نے بیٹے کو تو پیدا کیا ہے، لیکن بیٹی اللہ نے تحفے میں دی ہے۔ اگر میں اس تحفے کی قدر نہیں کروں گی تو اللہ ناراض ہوگا۔ بیٹی کو پیار دو گی تو وہ گھر کو جنت بنا دے گی، اسے ڈراؤ گی تو وہ گھر کو بوجھ سمجھے گی۔"


زارا بھی ایسی ساس کو پا کر بے حد خوش تھی۔ وہ دل سے صابرہ بیگم کی عزت کرتی تھی۔ وہ صبح صابرہ بیگم سے پہلے اٹھ جاتی، ان کے لیے چائے بناتی، ان کے کپڑے استری کرتی۔ اس نے کبھی صابرہ بیگم کو ساس نہیں، اپنی سگی ماں سمجھا۔


ایک بار صابرہ بیگم بہت بیمار ہو گئیں۔ ان کے گھٹنوں میں شدید درد تھا، وہ بستر سے اٹھ بھی نہیں پا رہی تھیں۔ عادل دفتر چلا جاتا، گھر میں صرف زارا اور صابرہ بیگم ہوتیں۔ زارا نے دس دن تک اپنی ساس کی ایسی خدمت کی کہ لوگ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ وہ ان کے پاؤں دباتی، ان کے بالوں میں تیل لگاتی، ان کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتی، ان کے کپڑے بدلتی۔ ایک رات صابرہ بیگم کو بہت تیز بخار ہو گیا۔ زارا ساری رات ان کے سرہانے بیٹھ کر پانی کی پٹیاں کرتی رہی۔


جب صابرہ بیگم ٹھیک ہوئیں تو انہوں نے زارا کو گلے لگا کر روتے ہوئے کہا، "مجھے فخر ہے کہ تو میری بہو ہے۔ آج میری اپنی بیٹی بھی ہوتی تو شاید اتنی خدمت نہ کرتی جتنی تو نے کی ہے۔"


پھر ایک دن زارا کی ماں اس سے ملنے آئی۔ اس نے دیکھا کہ زارا کا چہرہ خوشی سے چمک رہا ہے، اس کا وزن بھی بڑھ گیا ہے، وہ صحت مند لگ رہی ہے۔ اس کی ماں نے کہا، "زارا، میں تو سوچتی تھی کہ سسرال میں پتا نہیں میری بچی کیسی ہوگی، لیکن یہاں تو تم راج کر رہی ہو۔"


زارا نے ہنس کر کہا، "امی، مجھے یہاں ساس نہیں، ماں ملی ہے۔ یہ مجھے پلکوں پر رکھتی ہیں۔ کبھی بھی مجھے اپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی

یہی اس کہانی کا اصل پیغام ہے۔ جب عادل کا بیٹا ہوا تو صابرہ بیگم نے خوشی سے پورے محلے میں مٹھائی باٹی اور کہا، "میرے گھر میں آج دو خوشیاں ہیں، ایک میرے پوتے کی پیدائش اور دوسری میری بیٹی کے ماں بننے کی۔"


آج  تک اس گھر میں کبھی لڑائی نہیں ہوئی 

۔ کیونکہ وہاں ساس بہو کا رشتہ نہیں، ماں بیٹی کا رشتہ ہے۔ اگر ہر ساس اپنی بہو کو بیٹی سمجھ لے اور ہر بہو اپنی ساس کو ماں سمجھ لے تو کوئی بھی گھر کبھی نہیں ٹوٹے گا، ہر گھر جنت بن جائے گا۔


        

                  

            ،،سبق،،

کسی کے گھر سے لائے ہوئے بیٹی کو اپ اپنی ہی بیٹی سمجھیں بہو ناسمجھی یقین مانی کہ گھر جنت کی طرح ہو جائے گا اور اپ کی زندگی بھی سکون سے گزرے گی لڑائی جھگڑے میں کچھ نہیں رکھا۔ 

اگر اپ کو میری کہانیاں اچھی لگی ہے  تو کمنٹس میں ضرور بتائیں

امبرظفر 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بابا کا خالی کمرہ،، ایک بیٹی کی سچی اور دل کو چھو لینے والی کہانی

اپنوں نے لوٹ لیا ایک سادہ بہن کی سچی کہانی

بچی جو چاند کا انتظار کرتی تھی