وہ یتیم بچی،
،،وہ یتیم بچی،،
وہ چھ سال کی تھی جب اس کی ماں مر گئی۔
نام اس کا فائزہ تھا۔
چھوٹا سا چہرہ، بڑی بڑی آنکھیں، اور ہاتھ میں ہر وقت اپنی ماں کی پرانی چادر۔ لوگ کہتے تھے ماں کی قبر کے ساتھ ہی اس بچے کا بچپن بھی دفن ہو گیا ہے۔
باپ... باپ مجبور تھا۔ افس میں جاب کرتا تھا، صبح جاتا شام کو آتا۔ اسے لگا دوسری شادی کر لے گا تو بچی کو ماں مل جائے گی۔فائزہ کا خیال رکھے گی اس کو اسکول بھیجے گی پڑھائی کی لکھائے گی، اس اس طرح میری بیٹی کو ماں کا انچل مل جائے گا۔
اسے کیا خبر تھی کہ وہ آنچل کے نام پر اپنی بیٹی کے لیے کانٹوں کا بستر لے کر آ رہا ہے۔
نئی ماں آئی تو پہلے پہل ہنسی تھی۔ میٹھی باتیں۔فائزہ کو بہت پیار کرتی محلے والوں کے سامنے فائزہ کو بیٹی بیٹی کہنا۔ باپ خوش ہو گیا کہ فیصلہ ٹھیک تھا۔
پھر باپ کے افس پر جاتے ہی گھر کا نقشہ بدل جاتا۔
فائزہ کی صبح اذان سے پہلے شروع ہوتی۔
"اٹھ! کم بخت، ابھی تک سو رہی ہے؟"
چھوٹے سے ہاتھوں سے اسے پورے گھر کا جھاڑو لگانا پڑتا۔ برتن اس کے قد سے بڑے تھے۔ ہاتھ کانپتے، برتن گرتا تو اسی برتن سے اس کے ہاتھ پر مار پڑتی۔
روٹی اسے سب کے بعد ملتی۔ کبھی بچی ہوئی، کبھی جلی ہوئی۔ کبھی تو سوتیلی ماں کہتی، "تیرے لیے روٹی نہیں ہے، تیری ماں تو تجھے چھوڑ کر چلی گئی، میں تیرا ٹھیکہ تھوڑی لیا ہے۔"
سردیوں کی سخت راتوں میں فائزہ کو کمرے سے باہر نکال دیا جاتا۔ وہ اپنی ماں کی پرانی چادر میں لپٹ کر صحن کے ایک کونے میں بیٹھی رہتی۔ آسمان کو دیکھتی اور آہستہ سے کہتی، "اماں، آپ مجھے کیوں نہیں لے کر گئیں؟"
اپنے ساتھ مجھے بھی لے جاتی
وہ بچی جو کبھی اپنی ماں کی گود میں کہانیاں سن کر سوتی تھی، اب سارا دن طعنے سنتی تھی۔
"منحوس ہے، اسی نے اپنی ماں کو کھایا ہے۔"
"نکمی، کام چور۔"
فائزہ کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ یتیم تھی۔
اس کا باپ شام کو جب تھکا ہارا آتا تو سوتیلی ماں فوراً مگر مچھ کے آنسو بہانے لگتی۔ "آپ کی بیٹی نے سارا دن مجھے تنگ کیا ہے،اسکول نہیں گئی اور نہ ہی اس نے کھانا کھایا، بدتمیزی کی ہے۔" باپ بچی کو دیکھتا، بچی ڈری سہمی کھڑی ہوتی، کچھ بول نہ پاتی۔ وہ سمجھتا بچی شاید نئی ماں کو قبول نہیں کر رہی۔ وہ اسے ہی ڈانٹ دیتا۔ اور فائزہ... فائزہ کا دل وہیں ٹوٹ جاتا۔ جس باپ کو وہ اپنا آخری سہارا سمجھتی تھی، وہ بھی اسے نہیں سمجھ رہا تھا۔
وہ بھی سوتیلی ماں کی باتوں میں ا کے فائزہ کو ہی ڈانٹتا تھا
ایک دن شدید بخار تھا فائزہ کو۔ جسم آگ کی طرح تپ رہا تھا۔ اس نے ہمت کر کے کہا، "نئی اماں، مجھے دوا لا دیں۔"
جواب میں اسے وہ الفاظ سننے کو ملا جو اس کے ننھے دل کو چیر گیا۔
"مر جا تو جان چھوٹے، روز روز کا ڈرامہ ہے تیرا۔"
فائزہ اسی بخار میں صحن میں پڑی رہی۔ بارش شروع ہو گئی۔ سوتیلی ماں نے اسے اندر بھی نہ آنے دیا۔
اسی گلی میں ایک بوڑھی خالہ رہتی تھی، حمیدہ خالہ۔ وہ اکثر فائزہ کو دیکھتی تھی۔ اس کا دل کٹتا تھا۔ اس نے کئی بار سوچا کسی کو بتائے۔ اس دن جب اس نے فائرہ کو بارش میں تپتے ہوئے پڑے دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا۔
شام کو جب فائزہ کا باپ گھر آیا تو حمیدہ خالہ اور محلے کی دو تین عورتیں اس کے دروازے پر کھڑی تھیں۔
حمیدہ خالہ نے روتے ہوئے کہا، "بھائی اسلم، تجھے اللہ کا واسطہ ہے، اپنی بچی پر رحم کر۔ تو سمجھتا ہے وہ سکون میں ہے؟ وہ تو زندہ لاش بن گئی ہے۔ ہم روز دیکھتے ہیں تیری بیوی اس پر کیا ظلم کرتی ہے۔"
کس طرح سارا دن اس سے کام کرواتی ہے اسکول نہیں بھیجتی کبھی کھانا ہوتا ہے تو کبھی نہیں ہوتا
پھر انہوں نے ایک ایک بات بتائی۔ بھوکی بچی، سردی میں باہر سلانا، مارنا، گالیاں دینا۔
اسلم صاحب، کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ وہ بھاگ کر صحن میں گیا۔ فائزہ ابھی بھی وہیں پڑی تھی، بخار میں بے ہوش، ہونٹ خشک، ہاتھ میں اب بھی اپنی ماں کی وہی پرانی چادر۔
اس نے پہلی بار غور سے اپنی بیٹی کو دیکھا۔ گال اندر دھنس گئے تھے، آنکھوں کے گرد کالے حلقے، بازو پر نیلے نشان۔
اس کی آنکھوں سے آنسو نہیں، خون نکلا۔
اس نے فائزہ کو سینے سے لگایا۔ اتنے زور سے لگایا جیسے وہ اسے واپس اپنی جان میں سمو لینا چاہتا ہو۔
"میری بچی... میرے جگر... مجھے معاف کر دے۔ تیرا باپ اندھا ہو گیا تھا۔"
فائزہ نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔ باپ کو دیکھ کر بولی، "ابو، میں نے کچھ نہیں کیا... میں نے برتن بھی دھوئے تھے..."
یہ سنتے ہی باپ زمین پر بیٹھ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
اس رات اس نے اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا، اپنے ہاتھوں سے دوا پلائی، اور ساری رات اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر بیٹھا رہا۔
سوتیلی ماں کو اسی رات اس نے گھر سے نکال دیا۔
فائزہ کو نئی ماں نہیں چاہیے تھی، اسے صرف اپنے باپ کا پیار چاہیے تھا۔ وہ پیار جو اسے اپنی ماں کے مرنے کے بعد کھو گیا تھا۔
کہتے ہیں یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا عبادت ہے۔ اور یتیم کا دل دکھانا اللہ کے عرش کو ہلا دیتا ہے۔
،،سبق،،
ماں میں اور ماں جیسی میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے اگر اپ کسی بچے کے باپ سے شادی کر رہی ہیں تو اس کے بچوں کو بھی اپنائیں کسی یتیم مسکین کو اس طرح ظلم کا شکار نہ بنائیں،حمیدہ خالہ جیسے لوگ اگر خاموش نہ رہیں، تو کسی معصوم کی جان بچ سکتی ہے، محلے داروں کا بھی فرض ہے، کہ ظلم دیکھ کے اواز اٹھائیں
اگر میری کہانی اچھی لگتی ہے تو پلیز کمنٹس کر کے مجھے بتائیں
امبرظفر

👍🥺
جواب دیںحذف کریںBhote achi story hy 👍🏻
جواب دیںحذف کریںAchi hai story
جواب دیںحذف کریں