بابا کا خالی کمرہ،، ایک بیٹی کی سچی اور دل کو چھو لینے والی کہانی


 

*بابا کا خالی کمرہ*

کشف اپنے بابا کی اکلوتی بیٹی تھی۔ ماں تو بچپن میں ہی اسے چھوڑ کر اللہ کو پیاری ہو گئی تھی۔باپ نے ہی اس کو ماں اور باپ دونوں کا پیار دیا۔ باپ نے ہی ماں بن کر اسے پالا تھا۔

ماں سے بڑھ کر اس کو پیار دیتا تھا اس کی ہر ایک خواہش پوری کرتا تھا۔

باپ اویس ایک کمپنی میں ملازمت کرتا تھا دن رات محنت کرتا تھا کہ میں اپنی بیٹی کا مستقبل اچھا کروں اپنی بیٹی کی ہر ایک خواہش پوری کروں وہ اپنی بیٹی کے خاطر دن رات ایک کر کے محنت کرتا تھا۔اس نے اپنی بیٹی کو کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ خود پرانے کپڑے پہنتا لیکن اپنی بیٹی کو ہمیشہ نئے کپڑے، نئے جوتے پہناتا اور ہر عید پر اس کے لیے نیا جوڑا لاتا۔

کشف بہت ذہین تھی۔اچھے سکول میں تعلیم حاصل کر رہی تھی۔اس نے خواب دیکھا تھا کہ وہ بڑی ہو کر ڈاکٹر بنے گی۔ باپ نے کہا بیٹی تو میری شہزادی ہے، تو جو چاہے وہی بنے گی۔میں دن رات محنت کروں گا۔اور تیرا خواب ضرور پورا کروں گا

وقت گزرتا گیا۔ کشف نے میٹرک میں پورے شہر میں پہلی پوزیشن لی۔ باپ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ اس نے پورے خاندان والوں میں مٹھائی تقسیم کی اور سب کو کہتا رہا میری بیٹی نے میرا نام روشن کر دیا۔

پھر کشف کا داخلہ کراچی کے بڑے کالج میں ہو گیا۔ کالج گھر سے بہت دور تھا، اسے ہاسٹل میں رہنا پڑا۔ پہلی بار وہ اپنے بابا سے دور جا رہی تھی۔ جاتے ہوئے اس نے بابا سے کہا، بابا آپ بھی میرے ساتھ چلیں۔میں وہاں اکیلی کیسے رہوں گی۔تو بابا نے کہا نہیں بیٹا میں نہیں جا سکتا۔تم جاؤ اور وہاں جا کے دل لگا کے پڑھو اپنے سارے خواب پورے کرو بیٹی۔اور اپنی پرانی چادر میں لپٹے ہوئے کچھ پیسے دیے جو اس نے ایک ایک روپیہ جوڑ کر رکھے تھے۔

کشف نے کہا بابا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا بیٹا یہ میری زندگی بھر کی جمع پونجی ہے،جو میں نے تیرے لیے محفوظ کر کے رکھی تھی تاکہ تیرے کام ا سکیں تم لے جاؤ۔تم لے جاؤ تمہارے کام ائے گی یہ پیسے۔

کشف ہاسٹل چلی گئی۔ شروع میں وہ روز بابا کو فون کرتی تھی۔ بابا اسی کمرے میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ کشف اپنی دوستوں میں، شہر کی رنگینیوں میں مصروف ہو گئی۔ اب وہ ہفتے میں ایک بار فون کرتی تھی۔


بابا پھر بھی ناراض نہیں ہوتا تھا۔ وہ ہر رات اس کمرے کو صاف کرتا، اس کی کتابوں سے گرد صاف کرتا، اس کے بچپن کے کپڑوں کو تہہ لگا کر رکھتا۔ محلے والے کہتے تمہاری بیٹی تمہیں بھول گئی ہے۔ وہ کہتا نہیں، میری بیٹی بھولی نہیں ہے، وہ صرف پڑھائی میں مصروف ہے۔

عید آئی، کشف کا بابا بہت خوش تھا کہ میری بیٹی عید پر گھر ائے گی۔بابا نے کشف کے لیے نیا جوڑا خرید کر رکھا۔ وہ پورا دن دروازے کے باہر چارپائی بچھا کر بیٹھا رہا کہ شاید میری بیٹی آ جائے۔ لیکن بیٹی نے فون کیا کہ بابا میں نہیں آ سکتی، میں اپنی عید دوستوں کے ساتھ مناؤں گی۔ بابا نے کچھ نہیں کہا، بس کہا ٹھیک ہے میری شہزادی خوش رہو، اور وہ نیا جوڑا واپس صندوق میں رکھ دیا۔


سردیاں آئیں، بابا کو بخار ہوا۔ وہ اکیلا تھا کمرے میں۔کوئی دوائی یا کھانا دینے والا نہیں تھا اس کو۔ محلے کی خاتون نے کشف کو کال کی تمہارے بابا کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے۔کشف کو بہت ڈر لگا، وہ فوراً اپنے گاؤں آئی۔ جب گھر میں داخل ہوئی تو دیکھا باپ چارپائی پر پڑا ہے، کمزور ہو گیا ہے لیکن اس کی نظریں اب بھی دروازے پر ہیں۔

کشف بھاگ کر اپنے بابا کے سینے سے لگی، بابا مجھے معاف کر دیں میں آپ کو بھول گئی تھی۔ بابا نے کانپتے ہاتھوں سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، آنکھوں میں آنسو تھے لیکن ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ اس نے کہا میری بیٹی میرا کمرہ بھر گیا، تو معافی کیوں مانگ رہی ہے، باپ اپنی بیٹی سے کبھی ناراض نہیں ہوتے۔

اس نے آہستہ سے صندوق کھولا، اس میں تین جوڑے پڑے تھے جو وہ پچھلی تین عیدوں پر اس کے لیے لایا تھا۔ اس نے کہا دیکھ میں تیرے کپڑے سنبھال کر رکھے تھے، مجھے پتہ تھا تو ایک دن ضرور آئے گی۔

کشف نے وہ کپڑے دیکھے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اسے سمجھ آ گیا کہ اس شہر کی چمک دمک کچھ نہیں، اس نے اپنا سب سے قیمتی رشتہ کھو دیا تھا۔ اس نے بابا کے پاؤں پکڑ لیے اور کہا بابا اب میں کہیں نہیں جاؤں گی، میں یہیں آپ کے پاس رہوں گی۔

اپ کی خدمت کروں گی۔اپ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گی۔

بابا نے مسکرا کر آنکھیں بند کر لیں اور اللہ کو پیارا ہو گیا۔ وہ اپنی بیٹی کا انتظار کرتے کرتے اس دنیا سے چلا گیا لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا۔

کیونکہ اس کی بیٹی اخری وقت میں اس کے پاس تھی۔

آج کشف اسی چھوٹے سے کمرے میں رہتی ہے، وہ ڈاکٹر بن گئی ہے۔اج بھی اس کمرے میں اس کے بابا کی یادیں اس کا بچپن ہے۔ اس کمرے میں آج بھی اس کے بابا کے لائے ہوئے تین جوڑے ویسے ہی پڑے ہیں۔ وہ روز ان پر سے گرد صاف کرتی ہے اور روتی ہے۔


*بابا کے کمرے کا دروازھ کبھی بند مت کرو، کیونکہ جب باپ چلے جاتے ہیں تو بیٹی اکیلی ہو جاتی ہے اور صرف بابا کی یادیں ہی رہ جاتی ہیں۔ اللہ پاک ہر بیٹی کے باپ کا سایہ اس کے سر پر رکھے۔ آمین

اگر اپ کو میری  یہ کہانی اچھی لگے تو پلیز کمنٹس کر کے مجھے بتائیں 

امبر ظفر

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اپنوں نے لوٹ لیا ایک سادہ بہن کی سچی کہانی

بچی جو چاند کا انتظار کرتی تھی